السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،مفتی صاحب!
میرا نام عمارہ گل ہے اور میں کراچی، پاکستان سے ہوں، میں آن لائن میڈیکل بلنگ کا کام سیکھ رہی ہوں، اس کام میں ڈاکٹر مریض کا علاج کرتا ہے، پھر اس علاج کی تفصیل انشورنس کمپنی کو بھیجی جاتی ہے اور وہ کمپنی ڈاکٹر کو رقم ادا کرتی ہے۔،اگر پوری رقم نہ دے تو باقی مریض سے لی جاتی ہے، امریکہ میں عموماً ڈاکٹر اور مریض دونوں کا ایک ہی انشورنس کمپنی کے ساتھ رجسٹر ہونا ضروری ہوتا ہے، تب ہی ادائیگی ہوتی ہے،
میرا کام صرف ڈاکٹر کی طرف سے علاج کی تفصیل انشورنس کمپنی تک پہنچانا اور آنے والی ادائیگی کا ریکارڈ بنانا ہوتا ہے، میں نہ انشورنس کا معاہدہ کرتی ہوں اور نہ ہی سود کا کوئی براہِ راست لین دین کرتی ہوں، مجھے تنخواہ ڈاکٹر دیتا ہے،
جبکہ عام انشورنس کو سود کی وجہ سے ناجائز کہا جاتا ہے، تو کیا اس طرح صرف دفتری کام کرنا شرعاً جائز ہے؟
اور کیا اس کی کمائی حلال ہوگی؟
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ انشورنس کمپنیوں اور پالیسی ہولڈر زکے درمیان ہونےوالےمعاہدات عموماً ربا اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاًناجائز اور حرام ہیں، چنانچہ انشورنس کمپنیوں سے کسی بھی قسم کے معاہدات کرنے سےاحترازلازم ہے،لیکن اس کے باوجود اگرڈاکٹر /ہسپتال انشورنس کمپنی کے ساتھ مفاہمت کے نتیجے میں کسی مریض کا علاج ومعالجہ کرتا ہے ،تو علاج معالجہ کایہ عمل چونکہ بذاتِ خود ایک جائز خدمت ہے، لہٰذا اس کی اجرت انشورنس کمپنی کے ذمہ لازم ہوجاتی ہے، اور ڈاکٹر / ہسپتال کے لیے اپنے اس جائز عمل کی اجرت انشورنس کمپنی سے وصول کرنے کی گنجائش ہے، چونکہ بلنگ کا کام دراصل اسی جائز اجرت کی وصولی اور اس کے متعلق ضروری امور کی تحقیق و تکمیل ہے، اس کام کے لئے ملازمت اختیار کرنے اور اس کے بدلے تنخواہ لینے کی اگرچہ گنجائش ہے،تاہم اس کی آمدن میں کراہیت کاعنصربہرحال پایاجاتاہے ،اس لیے اس قسم کی مشکوک آمدن والی جگہ ملازمت اختیارکرنے کی بجائے کسی غیرمشتبہ ،حلال اورطیب آمدنی والی ملازمت اختیارکرنے کوترجیح دینی چاہیے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ)۔ (سورۃالبقرۃ:172)۔
وفی الدر المختار: (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك (قوله على المذهب الصحيح) قال بعده في التتارخانية.(الی قولہ)أقول: فالمراد من قولهم كل أنواع الكسب في الإباحة سواء أنها بعد أن لم تكن بطريق محظور لا يذم بعضها وإن كان بعضها أفضل من بعض تأمل الخ۔ (کتاب الصید،ج: 6،ص: 462،ط: سعید)