سوال نمبر 1:
میں سعودی عرب میں بس ڈرائیور ہوں اور حاجیوں کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ، پھر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ لے کر جاتا ہوں۔ راستے میں ایک ہوٹل پر حاجیوں کو کھانے کے لیے روکتا ہوں۔ ہوٹل والا مجھے 5000، 6000 یا 7000 روپے دیتا ہے، لیکن یہ رقم اس وقت دیتا ہے جب حاجی اس ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں؛ اگر حاجی وہاں کھانا نہ کھائیں تو وہ مجھے کوئی رقم نہیں دیتا۔ اسی طرح اگر میری گاڑی حاجیوں سے خالی ہو تو بھی وہ مجھے رقم نہیں دیتا۔ مذکورہ ہوٹل کا کھانا دوسرے ہوٹلوں کی نسبت مہنگا بھی ہوتا ہے۔ کیا یہ رقم میرے لیے شرعاً حلال ہے؟
سوال نمبر 2:
میں حاجیوں کو کھجور کے باغ میں بھی لے کر جاتا ہوں، وہاں کے لوگ بھی مجھے 5000 سے 50,000 روپے تک رقم دیتے ہیں۔ کیا یہ رقم میرے لیے شرعاً حلال ہے؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق، سائل کا اگر ہوٹل مالکان اور کھجور کے باغات والوں سے معاہدہ ہو اور وہ اس معاہدے کے تحت سائل کو ان کے ہوٹل یا باغات پر بس روکنے پر رقم دیتے ہوں، تاکہ وہ حاجیوں کو مہنگا کھانا اور کھجوریں فروخت کرسکیں، تو یہ رشوت ہی کی ایک صورت ہے، جو شرعاً ناجائز و حرام ہے، جس سے سائل کو اجتناب لازم ہے۔ البتہ اگر ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہو، بلکہ وہ اپنے کاروبار کی ترویج و ترغیب کے لیے سائل کو کچھ رقم دیتے ہوں، تاکہ آئندہ بھی ان سے خرید و فروخت کی جائے، تو شرعاً سائل کے لیے وہ رقم لینا جائز ہوگا۔
کما فی صحيح البخاري- طوق النجاة: 6979 - حدثنا عبيد بن إسماعيل حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه عن أبي حميد الساعدي قال استعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا على صدقات بني سليم يدعى ابن اللتبية فلما جاء حاسبه قال هذا مالكم وهذا هدية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فهلا جلست في بيت أبيك وأمك حتى تأتيك هديتك إن كنت صادقا ثم خطبنا فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد فإني أستعمل الرجل منكم على العمل مما ولاني الله فيأتي فيقول هذا مالكم وهذا هدية أهديت لي أفلا جلس في بيت أبيه وأمه حتى تأتيه هديته والله لا يأخذ أحد منكم شيئا بغير حقه إلا لقي الله يحمله يوم القيامة فلأعرفن أحدا منكم لقي الله يحمل بعيرا له رغاء أو بقرة لها خوار أو شاة تيعر ثم رفع يده حتى رئي بياض إبطه يقول اللهم هل بلغت بصر عيني وسمع أذني (9/ 28)
وفی المستدرك على الصحيحين للحاكم: 1472 - حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد، ثنا أحمد بن حيان بن ملاعب، ثنا أبو عاصم، ثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «من استعملناه على عمل فرزقناه رزقا، فما أخذ بعد ذلك فهو غلول» هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه (1/ 563)