میں ۲۵ سال کاہوں، میرا باپ میرے اور میری ۲ بہنوں اور ما ں کے حق کا منکر ہے اور عذر یہ بیان کرتا ہے کہ تمہاری ماں کے بھائی نے ایک مجلس میں کہا تھا کہ تمہاری اولاد میں پالو ں گا اور اگر تم اِن پہ ایک روپیہ خرچ سکتے ہو تو میں اِن پہ ۱۰۰ روپیہ خرچ کر و ں گا،ہمارا دعویٰ کرنے پر وہ غاصب یہ عذر بیان کرتا ہے کہ میں مستثنیٰ ہوں، اپنے ماموں سے مطالبہ کرو، نیز برسوں پہلے دوسری شادی کی، اپنی دوسری نکاح میں خود کو کنوارہ ظاہر کیا اور ہونے والی اولاد کی ہر ضرورت کو ترجیح دی، ہمارا حق دبا کے حج کر آیا۔
سائل چونکہ بلوغت اور کمانے کی عمر کو پہنچ چکاہے، اس لئے سائل کیلئے اب بھی اپنے والد سے خرچ واخراجات کا مطالبہ کرنا درست نہیں ،بلکہ اسے ازخود کوئی ذریعہ معاش تلاش کرکےاپنے اخراجات پورے کرنے چاہیے،جبکہ سائل کی بہنیں اگر شادی شدہ نہ ہوں اور ان کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن بھی نہ ہو، تو بیٹیوں کی شادی ہونے تک ،اسی طرح بیوی(سائل کی والدہ)کے اخراجات سائل کے والد کے ذمہ لازم ہیں، سائل کے والد کا بیوی کے بھائی کی ایک بات کو بنیاد بناکر اپنے فرائض و ذمہ داریوں کے پورا کرنے میں کوتاہی سے کام لینا شرعا جائز نہیں،ان پر لازم ہے کہ بیٹیوں کے اخراجات کےساتھ ساتھ دونوں بیویوں کے درمیان برابری اور اولاد میں عدل وانصاف کے تقاضوں کےمطابق برابری کا مظاہرہ کرکےمواخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں۔
کما فی الدرالمختار: (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح،(الی قولہ) (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته الخ (باب النفقۃ،ج:3،ص:572،ط:سعید)۔
و فی الھندیہ: تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان (كتاب الطلاق ، الباب التاسع عشر فی النفقات، ج: 1،ص: 544،ط:رشیدیہ)
وفی بدائع الصنائع: وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما إن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة۔الخ(فصل ومنھا وجوب العدل بین النساء۔الخ،ج:2،ص:332،ط:سعید)
وفي الدر المختار: (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، وفي رد المحتار: (قوله بأنواعها) من الطعام والكسوة والسكنى،(الی قولہ)(قوله لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم،(الی قولہ)(قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا، بخلاف الأنثى (باب النفقة، ج: 3، ص: 612،ط:سعيد)
وفیہ أيضا: (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك،
وفي رد المحتار: (قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة (باب النفقة، ج: 3، ص: 614)
وفي الهنديه:نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة(الفصل الرابع في نفقة الأولاد،ج:1،ص:560ط:ماجديه)۔