آمدنی و مصارف

انجیر کھانے کو حرام کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
93053
| تاریخ :
2026-03-08
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

انجیر کھانے کو حرام کہنے کا حکم

انجیر میں فگ واسپ یعنی کیڑا مردار کی شکل میں موجود ہوتا ہے۔یہ میری نظر میں وہ مردار جو اس میں پایا جاتا ہے کی وجہ سے حرام ہے۔میرے مطا بق یہی کھا کر آدم کو جنت سے نکلنا پڑا۔اور لوگ حرام کھا رہے ہیں۔آپ کی رائے کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کیڑے مکوڑے اور خشکی کے جملہ وہ جانور جن میں بہنے والا خون نہ ہو، پاک ہیں،لیکن ہر پاک چیز کا کھانا حلال نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں انجیر کھانے سے پہلے اس میں کیڑوں کے پائے جانے کا یقین ہو تو اسے صاف کیے بغیر کیڑوں سمیت کھانا جائز نہیں ،البتہ کیڑے کو الگ کرنے کے بعد اس کا کھانا جائز ہوگا، لىكن بعض اوقات صاف کرنے کے باوجود اس میں جوکیڑے رہ جائىں جس کا علم بھی نہ ہو سکے اور انجیر کھا لیے جائىں، تو حرج کے پیش نظر شرعاً ىہ معاف ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في بذل المجھود: (عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: أتي النبي ﷺ ‌بتمر ‌عتيق) أي قديم (فجعل يفتشه يخرج السوس) أي الدود (منه) ليأكل بعد إخراجها، فعلم من ذلك أن أكل دود الثمار لا يجوز، ووجهه أن الديدان من الخبائث، وقال تعالى: {وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ} قال القاري: وروى الطبراني بإسناد حسن عن ابن عمر رضي الله عنهما مرفوعًا: "نهى أن يفتش التمر عما فيه"، فالنهي محمول على التمر الجديد دفعًا للوسوسة، أو فعله محمول على بيان الجواز، انتهى. قلت: إذا كره أكل الديدان فإذا كان غلبة الظن على وجود الديدان في التمر لا يجوز أكله، أما إذا لم يغلب على الظن وجودها يجوز أكلها، فأما إذا كان قطعي الوجود حرم أكله للنص، فلا معنى لحمله على التنزيه وبيان الجواز اهـ (بَابٌ في تَفْتيشِ التَّمْرِ عِنْدَ الأكْلِ، ج:5، ص:365، ط: قاسمیۃ)
وفی الدرالمختار: (ولا يحل) (ذو ناب يصيد بنابه) فخرج نحو البعير (أو مخلب يصيد بمخلبه) أي ظفره فخرج نحو الحمامة (من سبع) بيان لذي ناب. والسبع: كل مختطف منتهب جارح قاتل عادة (أو طير) بيان لذي مخلب (ولا) (الحشرات) هي صغار دواب الأرض واحدها حشرة اهـ (کتاب الذبائح، ج:6، ص:304، ط: سعید)
وفی ردالمحتار تحت قوله: (واحدها حشرة) بالتحريك فيهما: كالفأرة والوزغة وسام أبرص والقنفذ والحية والضفدع والزنبور والبرغوث والقمل والذباب والبعوض والقراد، وما قيل: إن الحشرات هوام الأرض كاليربوع وغيره، ففيه أن الهامة ما تقتل من ذوات السم كالعقارب قهستاني اهـ (کتاب الذبائح، ج:6، ص:304، ط: سعید)
وفي رد المحتار: وكل ما لا دم له فهو مكروه أكله إلا الجراد كالزنبور والذباب أتقاني. ‌ولا ‌بأس ‌بدود ‌الزنبور قبل أن ينفخ فيه الروح لأن ما لا روح له لا يسمى ميتة خانية وغيرها: قال ط: ويؤخذ منه أن أكل الجبن أو الخل أو الثمار كالنبق بدوده لا يجوز إن نفخ فيه الروح اهـ. [كتاب الذبائح، ج:6 ص:306 ط: سعيد)]
وفی رد المحتار أیضا: ولو طحن بعر الفأرۃ مع الحنطۃ ولم یظھر أثرہ یعفی عنہ للضرورۃ اهـ (باب الانجاس، ج:1، ص:319، ط: سعید)
وفي الفتاوى الهندية: ‌وأكل ‌دود ‌الزنبور ‌قبل أن ينفخ فيه الحياة لا بأس به، كذا في الظهيرية. [كتاب الذبائح، الباب الثالث في المتفرقات، ج:5 ص:290 ط: رشيدية)]
وفي الشامية: وفي التتارخانية: ‌دود ‌لحم ‌وقع ‌في ‌مرقة لا ينجس ولا تؤكل المرقة إن تفسخ الدود فيها اهـ أي: لأنه ميتة وإن كان طاهرا. قلت: وبه يعلم حكم الدود في الفواكه والثمار اهـ [كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فروع في الاستبراء، ج:1 ص:349 ط: سعيد)]
وفي لمبسوط: قال (وإن مات في الإناء ذباب، أو عقرب، أو غير ذلك مما ليس له دم سائل لم يفسده عندنا)، وقال الشافعي رضي الله عنه يفسده إلا ما خلق منه كدود الخل يموت فيه، ‌وسوس ‌الثمار يموت في الثمار (إلى قوله) إلا أن فيما خلق منه ضرورة، ولا يمكن التحرز عنه فصار عفوا لهذا، (ولنا) حديث أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله ﷺ «إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فامقلوه، (إلى قوله) ومعلوم أن الذباب إذا مقل مرارا في الطعام الحار يموت فلو كان مفسدا لما أمر بمقله، وفي حديث سلمان الفارسي رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال «ما ليس له دم سائل إذا مات في الإناء فهو الحلال أكله، وشربه، والوضوء به»، ولأن الحيوان إذا مات فإنما يتنجس لما فيه من الدم المسفوح اهـ [كتاب الصلاة، باب الوضوء والغسل، ج:1 ص:51 ط: دار المعرفة بيروت)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93053کی تصدیق کریں
1     115
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • صدقہ کی چیز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات