السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، میں نے 2014 میں شادی کی۔ ابتدائی سالوں میں مجھے یہ علم نہیں تھا کہ رمضان کے دن میں روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کرنے سے نہ صرف روزہ ٹوٹتا ہے ، بلکہ کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، تقریباً 3–4 سال پہلے مجھے اس مسئلے کا صحیح علم ہوا، ماضی میں مختلف رمضانوں میں مختلف دنوں میں یہ عمل ہوا، صحیح تعداد یاد نہیں، لیکن اندازاً 10 یا 15 دن ہو سکتے ہیں، بیوی زبردستی نہیں تھی، وہ میری بات پر راضی ہو جاتی تھی، اب دریافت طلب امور یہ ہیں: 1. کیا مجھ پر ہر دن کی صرف قضا لازم ہے یا کفارہ بھی لازم ہوگا ، جبکہ مجھے اس وقت حکم کا علم نہیں تھا؟جب مجھے حکم کا علم ہوا اُس کے بعد ایک بار مجھے یاد ہے، 2. کیا بیوی پر بھی قضا اور کفارہ لازم ہوگا؟ 3. اگر کفارہ لازم ہے تو کیا ہر دن کا الگ کفارہ ہوگا؟میں سچے دل سے توبہ کر چکا ہوں اور آئندہ کے لیے پکا ارادہ ہے کہ ایسا نہیں کروں گا، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
واضح ہوکہ رمضان المبارک میں روزہ کی حالت میں جان بوجھ کر بیوی سے جماع کرنےسے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے ماضی میں رمضان کے دنوں میں روزہ کی حالت میں بیوی سے جماع کیا، اگرچہ اس وقت اسے کفارہ کے حکم کا علم نہیں تھا، تب بھی شرعاً اس پر ان روزوں کی قضا اور کفارہ لازم ہوگا، چنانچہ جتنے روزوں میں یقین یا غالب گمان کے مطابق ایسا ہوا ہے، ان تمام روزوں کی قضا لازم ہے۔البتہ اگر یہ عمل متعدد رمضانوں میں باربار ہوا اور ابھی تک ایک بھی کفارہ ادا نہیں کیا گیا ، تو ایسی صورت میں ہرروزہ توڑنے پرالگ الگ کفارہ لازم نہ ہوگا، بلکہ ہر رمضان کاایک ہی کفارہ کافی ہوگا۔لہذاجتنے رمضانوں میں یہ عمل سرزدہوا،سائل پراسی تعدادکے مطابق کفارے لازم ہونگے، جبکہ کفارہ کا طریقہ یہ ہے کہ مسلسل ساٹھ (60) روزے رکھے جائیں، اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کاکھانا کھلایا جائے، نیز اگر بیوی بھی اس عمل میں اپنی رضا سے شریک تھی تو اس پر بھی ان روزوں کی قضا اور کفارہ لازم ہوگا، لیکن اگر اسے مجبور کیا گیا ہو تو اس پر صرف قضا لازم ہوگی ، کفارہ لازم نہ ہوگا،لہٰذا سائل اور اس کی اہلیہ دونوں پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس گناہ پرسچی توبہ کریں، فوت شدہ روزوں کی قضا کریں اور کفارہ بھی ادا کریں،تاکہ مؤاخذہ اُخروی سے سبکدوشی ممکن ہوسکے ۔
کمافی ردالمحتار:تحت: (قوله: وعليه الاعتماد) نقله في البحر عن الأسرار ونقل قبله عن الجوهرة لو جامع في رمضانين فعليه كفارتان وإن لم يكفر للأولى في ظاهر الرواية وهو الصحيح. اهـ. (باب مایفسد الصوم ومالا یفسدہ،ج:2، ص: 413، ناشر: سعید)
وفی الھندیۃ: من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةالخ(النوع الثانی مایوجب القضاء والکفارۃ،ج:1، ص:205 ، ناشر:ماجدیہ)
وفی البحرالرائق: فإن الجهل بالأحكام في دار الإسلام ليس بمعتبر خصوصا اھ(اقسام الصوم، ج:2 ، ص: 282، ناشر: دارالکتاب الاسلامی)
وفی الھدایۃ: والكفارة مثل كفارة الظهار" لما روينا ولحديث الأعرابي فإنه قال يا رسول الله هلكت وأهلكت فقال ماذا صنعت قال واقعت امرأتي في نهار رمضان متعمدا فقال صلى الله عليه وسلم "أعتق رقبة" فقال لا أملك إلا رقبتي هذه فقال "صم شهرين متتابعين" فقال وهل جاءني ما جاءني إلا من الصوم فقال "أطعم ستين مسكينا الخ (باب مایوجب القضاء والکفارۃ، ج: 1، ص:122،ناشر:بیروت)
وفی بدائع الصنائع: ولو جامع في رمضان متعمدا مرارا بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا(فصل حکم فسادالصوم، ج: 2، ص:101،ناشر:دارالکتب العلمیۃ)
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0