السلام علیکم جناب! مجھ سے میری بیوی کافی لڑتی رہتی ہے، اور زبان کے ساتھ ہاتھ بھی چلاتی ہے، بہت سمجھانے کے باوجود بھی کچھ دن تک رہتی ہے،لیکن اس کے بعد پھر وہی جھگڑے اور لڑائی کرتی ہے، جبکہ میرے امی ابو بھی کہتے ہیں،کہ بیٹا اسے چھوڑ دے، کیونکہ آگے کی زندگی آپ کی خراب ہوگی،کیونکہ یہ بدزبان ہے اور کافی دفعہ اس نے مجھے منہ پر بھی چماٹ دیا،میں اس کو چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ میں نے حق مہر کافی لکھا ہے، تو مجبور ہوں ان کو یہ بات پتہ ہے،بس لڑائی جھگڑے کرتی ہے اور کچھ نہیں،کافی بار میں تنگ آکے گھر سے بھاگ جاتا ہوں، دین اور اسلام میں کیا حکم ہے ایسے معاملے میں، کہ کیا کیا جائے؟
سائل کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کی بیوی کا مذکور رویہ شوہر کی بے عزتی اور بے اکرامی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعا ناجائز اور حرام ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہی ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے حضور بصدق دل توبہ و استغفار کرے اور شوہر سے بھی اس رویہ پر دست بستہ معافی مانگ کر اپنے گھر کو بسانے کی فکر کرے ، چنانچہ اگر وہ توبہ تائب ہوکر اپنے مذکور طرز عمل سے باز آئےتو سائل کو بھی چاہیے کہ اسے معاف کرکے گھر بسانے کی کوشش کرے، تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود سائل کی بیوی اپنے رویے سے باز نہ آرہی ہو، اورسائل کےلئے حدود شرعی کی رعایت کرتے ہوئے اسکے ساتھ نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو، تو سائل کے لئے بیوی کو طلاق یا خلع کے ذریعے اپنی زوجیت سے علیحدہ کرنے کی بھی گنجائش ہوگی۔
کما فی المشکاۃ : عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ المراۃ اذا صلت خمسھا و صامت شھرھا واحصنت فرجھا واطاعت بعلھا فلتدخل من ای ابواب الجنۃ شائت ( باب عشرۃ النساء ، ج : 2 ، ص : 281 ، ط : قدیمی )
وفیہ ایضا : عن طلق ابن علی قال قال رسول اللہ ﷺ اذا الرجل دعا زوجتہ لحاجتہ فلتاتہ وان کانت علی التنور ( باب عشرۃ النساء ، ج : 2 ، ص : 281 ، ط : قدیمی )
و فی احکام القرآن تحت قولہ تعالی ( الرجال قوامون علی النساء ) قد افاد ذلک لزومھا طاعتہ لان وصفہ بالقیام علیھا یقتضی ذلک ( واللاتی تخافون نشوزھن ) یدل علی ان علیھا طاعتہ فی نفسھا و ترک النشوز علیہ (باب حق الزوج علی المراۃ و حق المراۃ علی الزوج ، ج : 1 ، ص : 374 ، ط : سھیل اکیڈمی )
و فی الدرالمختار : الاصل فیہ الحظر معناہ ان الشارع ترک ھذا الاصل فاباحہ بل یستحب لو مؤذیۃ او تارکۃ صلاۃ غایۃ ومن محاسنہ التخلص بہ من المکارہ ،
و فی رد المختار تحت قولہ ( من محاسنہ التخلص ) ای من محاسنہ جعلہ بید الرجال دون النساء ومنھا شرعہ ثلاثا لان النفس کذوبۃ ربما تظھر عدم الحاجۃ الیھا ثم یحصل الندم فشرع ثلاثا لیجرب نفسہ اولا و ثانیا ( کتاب الطلاق ، ج : 3 ، ص : 229 ، ط : سعید )
وفی الدر المختار : و ینکح مبانتہ بما دون الثلاث فی العدۃ و بعدھا بالاجماع ( باب الرجعۃ ، ج : 3 ، ص : 409 ، ط : سعید )
و فی الموسوعۃ الفقھیۃ : اتفق الفقهاء على أن طاعة الزوج واجبة على الزوجة، لقوله تعالى (الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض وبما أنفقوا من أموالهم) ( باب استمتاع کل من الزوجین بالاخر ، ج : 31 ، ص : 313 ، ط : دار السلاسل الکویت)