میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں اور میری ذمہ داریوں میں ان کے لیے سامان سورس کرنا شامل ہے، لیکن اس کے لیے مجھے الگ سے ادائیگی نہیں ہوتی۔
کیا یہ جائز ہے کہ میں سپلائر سے اصل قیمت لے کر کمپنی کو زیادہ ریٹ بتاؤں اور اضافی رقم بطور منافع لے لوں؟
یا یہ کہ میں پہلے اپنے پیسوں سے سپلائر کو کچھ رقم دے کر سامان خرید لوں، پھر کمپنی کو اپنی مقررہ قیمت سپلائر کو ادا کروا دوں اور فرق بطور منافع لے لوں؟
چیز کی قیمت کمپنی کی پسند کی ہوتی ہے۔
منافع لینے کے لیے میرے لیے کون سا طریقہ حلال ہوگا، اگر کوئ اور حلال طریقہ ہے تو بتا دیں۔
جزاک اللہ
سائل کی مفوضہ ذمہ داریوں میں اگر کمپنی کے لیئے سامان خریدنا شامل ہو، تو ایسی صورت میں سائل مذکور کمپنی کے لیئے سامان خریدنے کا وکیل ( وکیل بالشراء ) ہے، لہذا سائل کا کمپنی کے لیئے خریدے جانے والے سامان کو پہلے از خود خرید کر پھر کمپنی کو زیادہ قیمت پر فروخت کرنا یا سپلائر کو کمپنی کے لیئے خریدے گئے سامان کے مد میں کم قیمت دیکر کمپنی سے زیادہ قیمت کرکے منافع کمانا شرعا ناجائز اور حرام ہے، جس سے سائل کو اجتناب لازم ہے۔
کما فی صحیح المسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني ( باب قول النبی ﷺ من غش فلیس منا، ج:1، ص: 69، ط: دار الطباعۃ )
و فی عون المعبود تحت قول النبی ﷺ "ليس منا"، معناه: ليس سيرتنا ومذهبنا، يريد أن من غش أخاه، وترك مناصحته، فإنه قد ترك اتباعي والتمسك بسنتي ( باب فی النھی عن الغش، ج: 11، ص: 166، ط: مرکز شیخ ابی الحسن الندوی )
ص
وفی مجلۃ الاحکام: المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان، والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة ( الفصل الاول فی بیان احکام الوکالۃ، ص: 284، ط: کارخانہ تجارت کتب کراچی)
وفی درر الاحکام: (إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة انظر المادة ( الفصل الثانی فی بیان الوکالۃ بالشراء،ج: 3، ص: 573، ط: دارالجیل )