جناب عالی! میری دو ز وجہ ہىں، ایک میرے ذاتی مکان میں مقیم ہیں اور دوسری کرایہ کے گھر میں رہتی ہیں، کیا دونوں کو ذاتی گھر دینا ضروری ہے؟ اور وقت کے حساب سےمساوات کیسے کروں؟ دوسری زوجہ چاہتی ہے کہ رات کا وقت روزانہ میں اس کے پاس گزاروں، تو اس سلسلے میں، میں نے روزانہ رات کا وقت ادھا ادھا بانٹ دیا ہے، کیا یہ جائز ہے؟ میری پہلی زوجہ نے مجھے اپنے ذاتی گھر میں رہنے کی خواہش پر مجھے اپنی باریاں اسی شرط پر معاف کر دی تھی اور دوسری زوجہ نے رات اس کے پاس گزرنے کی شرط پر اپنے حقوق معاف کر دیے تھے، جس میں کھانا پینا رہائش کی برابری ہے، بعد میں زوجہ اول نے کہا کہ میں اپنی باریاں واپس لیتی ہوں، اور دوسری زوجہ نے بھی کہا کہ میں نے جو حق معاف کئے تھے میں بھی وہ واپس لیتی ہوں، تو کیا اس طرح دونوں کا مجھے حق معاف کر کے واپس لینا جائز ہے؟ براہ مہربانی شریعت کی رو سے مجھے جواب عنایت فرمائے۔ عین نوازش ہوگی۔
واضح ہو کہ متعدد ازدواج کی صورت میں شریعت نے شوہر پر عدل و مساوات کو واجب کیا ہے، چنانچہ ہر بیوی کو اس کی حیثیت کے مطابق رہائش فراہم کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے، جہاں وه شوہر کے ساتھ سکون سے زندگی بسر کر سکے، البتہ دونوں بیویوں کو ذاتی مکان میں رہائش دینا ضروری نہیں، بلکہ ایک کو ذاتی اور دوسرے کو کرایہ کے مکان میں بھی رہائش فراہم کرنے کی گنجائش ہے، تاہم دونوں کی رہائش کا عرفاً مناسب اور سہولیات میں ایک سا ہونا لازم ہے، جبکہ متعدد بیویوں کے درمیان راتوں کی تقسیم میں برابری واجب ہے، جس میں دونوں کے پاس ایک ایک مکمل رات گزاری جائے، لیکن اس شب باشی میں ہر ایک کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا لازم نہیں ہے، اسی طرح اگر کسی بیوی نے اپنی خوشی اور مرضی سے اپنی باری یا بعض حقوق (مثلاً شب باشی یا نفقہ میں مساوات) معاف کر دئیے ہو، تو شرعاً اسے اختیار حاصل ہے، کیونکہ یہ اس کا ذاتی حق ہے تاہم یہ معافی دائمی طور پر لازم نہ ہوگی، بلکہ جب تک وہ راضی رہے نافذ ہوگی، اور اگر وہ بعد میں حقوق واپس لینا چاہے تو اسے اس کا اختیار حاصل ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب دونوں بیویوں نے اپنے سابقہ ساقط شدہ حق كو واپس لے لیا ہے تو اب شوہر پر لازم ہے کہ وه از سر ِنو ان کے درمیان مساوات قائم کرے اور کسی ایک کو دوسری پر بلا رضامندی ترجیح دینے سے احتراز كرے۔
كما في سنن أبي داود: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: "من كانت له امرأتان، فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل" (3/ 469 ت: الأرنؤوط)
وفي بدائع الصنائع: فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة اهـ (فصل وجوب العدل بين النساء في حقوقهن،ج: 2 ص: ط:332 ايچ ايم سعيد)
وفيها أيضاً: ولو وهبت إحداهما قسمها لصاحبتها أو رضيت بترك قسمها؛ جاز؛ لأنه حق ثبت لها، فلها أن تستوفي، ولها أن تترك، وقد روي أن سودة بنت زمعة رضي الله عنها لما كبرت، وخشيت أن يطلقها رسول الله صلى الله عليه وسلم جعلت يومها لعائشة رضي الله عنها، وقيل فيها نزل قوله تعالى {وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير} [النساء: 128] ، والمراد من الصلح هو الذي جرى بينهما كذا قاله ابن عباس رضي الله عنهما فإن رجعت عن ذلك، وطلبت قسمها، فلها ذلك؛ لأن ذلك كله كان إباحة منها، والإباحة لا تكون لازمة كالمباح له الطعام أنه يملك المبيح منعه، والرجوع عن ذلك اهـ فصل وجوب العدل بين النساء في حقوقهن، ج: 2 ص: 333 ط: ايچ ايم سعيد)