گجر ٹریڈرز ،ہمارا قسطوں کا کاروبار ہے، ہم قسطوں پر موبائل موٹر سائیکل فری جے سی الیکٹرانکس سے متعلق کافی چیزیں ایک سال کی اسان ایک ساتھ میں دیتے ہیں ، رول یہ ہے کہ ہم قسط لیٹ ہونے پر کوئی جرمانہ نہیں لیتے، طے کی ہوئی قیمت میں ہم بعد میں کمی یا زیادتی نہیں کرتے، اس کے علاوہ ظاہر سی بات ہے کہ اگر ہم 30 ہزار روپے کا موبائل لاتے ہیں اور قسطوں پہ ہم اسے 38 یا 40 ہزار کا قسطوں پہ سیل کرتے ہیں تو کیا یہ کاروبار جائز ہےاور حلال ہے؟ اور اس میں یہ ہے کہ مجھے فتوی مل سکتا ہے پی ڈی ایف کی صورت میں اس اپنے کاروبار کے لیے؟
واضح ہو كہ قسطوں پر خرید و فروخت کے وقت اگر درج ذىل شرائط کی رعایت رکھ لی جائے تو یہ کاروبار شرعا جائز اور درست ہوگا۔
(1) مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(2) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔
(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہو نگی ۔
(4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکور شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کاروبارر چلاىا جائے تو وه بھى بلا شبہ جائز اور درست ہوگا ۔
کما في سنن الترمذي تحت حديث أبي هريرة رضي الله عنه: نهى رسول الله ﷺ عن بيعتين في بيعة: وقد فسر بعض أهل العلم، قالوا: بيعتين في بيعة، أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما، فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما [كتاب البيوع، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، ج:13 ص:84 ط: دار الرسالة العالمية)]
وفی المبسوط: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي ﷺ عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اهـ [كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ج:13 ص:8 ط: دار المعرفة بيروت]
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبيعك نقدا بكذا ونسيئة بكذا، وافتراقا على ذلك، دون أن يتفقا على تحديد واحد من السعرين، فإن مثل هذا البيع لا يجوز، ولكن إذا عين العاقدان أحد الشقين في مجلس العقد، فالبيع جائز. [أحكام البيع بالتقسيط، ج:1 ص:12 ط: دار القلم- دمشق)]
وفي شرح المجلة: البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (إلى قوله) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط (إلى قوله) يعتبر ابتداء مدة الأجل والقسط المذكورين في عقد البيع من وقت تسليم المبيع اهـ ((المادة 245) ج:2 ص:166 -170)
وفي الشامية: في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي اهـ [كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4 ص:6 ط: سعيد]
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0