کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
ہمارا لیڈیز اور جینٹس کے کپڑوں کا کاروبار ہے، کام اس طرح شروع ہوا کہ یہ کام ہمارے دادا نے ایک دکان سے شروع کیا تھا دادا کے ساتھ ان کے دو بیٹے (میرے والد صاحب اور چچا) بھی کام میں شامل ہو گئے ، کچھ عرصہ میں کاروبار بڑھا تو دادا نے ایک دکان اور خرید لی اور پھر انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے دونوں دکانیں اپنے دونوں بیٹوں میں تقسیم کر دی والد صاحب اپنی ایک دکان سنبھالنے لگے لیکن ان سے وہ نہیں سنبھل پائی اور حالات اس حد تک بگڑے کہ جب میں شامل ہوا تو دکان میں مال دو لاکھ روپے کا تھا جبکہ کاروبار پر قرضہ بیس لاکھ سے زیادہ کا تھا، پھر میں نے اپنے کچھ جان پہچان والوں سے قرضہ لیا اور کاروبار کو میں اس سرمایہ کے ساتھ شامل ہو گیا اور کاروبار کو دوبارہ مستحکم حالت میں لے کر آیا، اس وقت کار و بار اس حد تک مستحکم ہے کہ ہماری چار دکانیں ہیں، اور ہم آن لائن بھی کام کر رہے ہیں۔
اب حالت یہ ہے کہ کاروبار کی تمام ذمہ داریاں مجھ پر ہے والد صاحب دکان پر آکر بیٹھتے ہیں، دکان کے کچھ حساب کتاب دیکھ لیتے ہیں، اور ان کے دکان پر بیٹھنے سے کچھ گاہک بھی آتے ہیں لیکن اب دکان میں کوئی بھی لین دین ہو تو اس میں آخری فیصلے کا اختیار مجھے ہی حاصل ہے۔
نوٹ : کاروبار کے لیے میں نے جو بھی قرض لیا تھا وہ میں نے دکان کی آمدنی سے ہی ادا کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ : شرعا یہ کاروبار کس کا ہے ؟ اس کاروبار میں شرعا میری حیثیت کیا ہے ؟
صورت مسئولہ میں جب سائل کے دادا نے اپنی زندگی میں اپنا کاروبار اور دوکانیں اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کا حصہ با قاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ سپر د بھی کر دیا تھا، تو اس سے سائل کے والد اور چچا اپنے حصوں کے مالک بن چکے ہیں، اس کے بعد اگر چہ سائل اپنے والد کے کاروبار کو نقصان کے بعد با قاعدہ سنبھال کر مستحکم حالت میں لے کر آیا، لیکن چونکہ یہ کاروبار بنیادی طور پر سائل کے والد کی ہی ملکیت ہے اور وہ اب بھی بقید حیات ہیں، تو سائل کا اس کاروبار میں محت کرنا اور اسے مستحکم بنانا اپنے والد کے ساتھ تعاون شمار ہو گا، اس لیے سائل کے لیے اس کاروبار میں با قاعدہ حصہ داری اور ملکیت کا دعویٰ کرنا شرعا درست نہیں، تاہم اگر سائل کے والد سائل کی محنت کے عوض اسے کچھ دینا چاہیں تو انہیں اختیار ہے، لیکن ایسا کر ناشر عا ان پر لازم نہیں۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب اھ (4/ 325) والله اعلم بالصواب
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0