محترم مفتیانِ کرام! السلام علیکم۔میں ایک آن لائن کاروبار چلاتا ہوں اور ہم اپنی خدمات فروخت کرنے کے لیے انسٹاگرام پر کاروباری حضرات سے رابطہ کرتے ہیں۔ ہم ایسے اکاؤنٹس استعمال کرتے ہیں ،جن پر ہماری اپنی پروفائل تصویر اور نام موجود ہوتا ہے، تاکہ اُن کاروباری افراد سے رابطہ کیا جا سکے،لیکن اب ہم اپنے کاروبار کو وسعت دے رہے ہیں اور ہمیں بہت زیادہ لوگوں سے رابطہ کرنا پڑ رہا ہے، اس لیے ہم نے انسٹاگرام پر متعدد اکاؤنٹس بنا لیے ہیں، چونکہ اکاؤنٹس کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے ہم ہر اکاؤنٹ پر اپنی تصویر نہیں لگا سکتے۔ چنانچہ ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ پروفائل تصویر کے طور پر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصویر استعمال کریں اور پھر اُن کاروباری افراد سے رابطہ کریں۔ہم کسی بھی طرح اُن کاروباری افراد کو نقصان نہیں پہنچا رہے اور نہ ہی اُن کے ساتھ دھوکا دہی کر رہے ہیں۔ کیا یہ عمل حلال ہے یا حرام؟
صورت مسؤلہ میں کاروبار کی توسیع کے لئے اگر مختلف اکاؤنٹس بناکر ان پر اے آئی سے تیارکردہ تصویر لگائی جائے ،جس کا مقصد کسی قسم کا فراڈ،مالی دھوکہ اور جھوٹی شناخت نہ ہو ،بلکہ کاروبار اور مارکیٹینگ کے لیئے ایک علامت کے طور پر ایسا کیا گیا ہو ، تو اس طرح کی تصویر لگانے میں کوئی حرج نہیں ۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني، ( باب قول النبی من غش فلیس منا،ج: 1، ص:69، ط: دار الطباعۃ )
وفی فقہ المیسر: التدليس: هو إظهار المعقود عليه بصورة ليس هو عليها في الواقع، كالذي يبيع بقرة لأجل لبنها ويتركها مدة دون حلب؛ ليتوهم المشتري أنها حافلة باللبن وأن هذه هي عادتها، وبعد أن يأخذها المشتري تظهر حقيقة أمرها فهنا له خيار التدليس، التدليس محرم شرعًا؛ لما فيه من الغش والخداع وأكل أموال الناس بطريق ( خیار التدلیس وحکمہ، ج: 6، ص: 62، ط: المملکۃ العربیہ سعودیہ )
و فی فقہ البیوع: والثانی ان یکون التغریر فی بیان وصف المبیع الی قولہ او جعل علیھا علامۃ تجاریۃ ( مارکۃ) کاذبۃ، فتنطبق علیہ احکام خیار فوات الوصف، لان قول البائع ان المبیع موصوف بصفۃ معینۃ، ورضا المشتری علی ذلک الاساس فی حکم اشتراط ذلک الوصف فی المبیع، واذا اشترط وصف خاص فی المبیع، حصل للمشتری خیار الفسخ عند فواتہ ( التغریر القولی وانواعہ، ج: 1، ص: 201،ط: معارف القرآن)
وفیہ ایضا: ان التغریر ھو الکذب او الخداع المتعمد من احد طرفی العقد ( التغریر القولی وانواعہ، ج: 1، ص: 201،ط: معارف القرآن)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0