ایک شخص کی منگنی ہوئی، لڑکی کو کپڑے اور انگوٹھی دی گئی اور یہ سمجھا گیا کہ: لڑکی اس لڑکے کے نام ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد لڑکی والوں نے انکار کر دیا اور اب وہ لڑکی کا رشتہ دوسری جگہ کر رہے ہیں اور لڑکی بھی راضی ہے۔ کیا اسلام میں یہ گناہ ہے؟
واضح ہو کہ منگنی چونکہ وعدہ نکاح ہے،باقاعدہ نکاح نہیں، لہذا کسی معقول عذر کی بنا پر اسے توڑنے کی بھی گنجائش ہے، البتہ بلا وجہ وعدہ توڑنا شرعا ًو اخلاقاً درست نہیں، اگر صورت مسؤلہ میں ایسی صورت پیش آئی ہو تو لڑکی اور اس کے گھر والوں کو یقینا ًوعدہ خلافی کا گناہ ہوگا۔
کما في الدر المختار: أو هل أعطيتنيها إن المجلس للنكاح، وإن للوعد فوعد اھ (کتاب النکاح، ج:3،ص: 12، دار الكتب العلمية - بيروت)
کما فی الھدایة: (وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية اھ ( کتاب النکاح،ج: 1، ص: 267 ، مط: ماجدیة )