بخدمتِ محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !بعد از سلام عرض ہے کہ: میرا نام زوجہ خان ہے، میں اس وقت ریاض میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ مقیم ہوں، الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی تمام نعمتوں کے ساتھ ساتھ تین بچوں جیسی پیاری نعمتوں سے بھی نوازا ہوا ہے، میرے شوہر ہم سب کے ساتھ ماشاءاللہ سعودی عرب میں ایک اچھی پوسٹ پر فائز ہیں اور اپنے کام کے سلسلے میں اکثر ریاض، جدہ اور کبھی کبھار دبئی کا سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔
محترم مفتی صاحب ! چند برس قبل تک میرے شوہر کے دفتر میں خواتین ملازمین کا کوئی تصور نہ تھا، لیکن 2025 کے وسط سے وہاں خواتین کو ملازمت دی جانے لگی ہے، اسی دوران میرے شوہر کو ایک نہیں، بلکہ ریاض اور جدہ دونوں دفاتر میں الگ الگ خواتین پرسنل اسسٹنٹس دی گئی ہیں، یہی وہ نکتہ ہے جس کے بعد ہمارے ازدواجی تعلق میں بتدریج فاصلے پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں، اگرچہ میرے شوہر نہایت اچھے، شریف النفس اور نیک دل انسان ہیں، لیکن وہ بھی آخر انسان ہی ہیں، پہلے بھی کام کے دباؤ کی وجہ سے دیر سے گھر آتے تھے، مگر اب ان کی مصروفیات اور رویّے میں مزید تبدیلی محسوس ہوتی ہے، گھر آکر اکثر موبائل فون میں مشغول رہتے ہیں اور مجھ سے پہلے جیسی بات چیت نہیں رہی، اس صورتحال نے میرے دل میں شدید بےچینی، شک اور اضطراب پیدا کر دیا ہے، حتیٰ کہ میری ذہنی صحت بھی متاثر ہونے لگی ہے، جب میں نے اس بارے میں ان سے بات کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے یہی کہا کہ: وہ خواتین ان کے لیے بیٹیوں کی مانند ہیں اور وہ ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتے، میں اس بات کو ماننا بھی چاہتی ہوں اور دل سے مانتی بھی ہوں، مگر اس کے باوجود میرے خیالات قابو میں نہیں رہتے، موڈ سوئنگز بڑھ گئے ہیں اور اب یہ کیفیت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ: وہ مجھے ہر وقت ناراض سمجھ کر مجھے منانے کے بجائے مجھ سے مزید دور ہوتے جا رہے ہیں۔
محترم مفتی صاحب ! مجھے پورا یقین ہے کہ: یہ سب شیطان کے حربے ہیں جو میاں بیوی کے درمیان بدگمانیاں اور دوریاں پیدا کرتا ہے، لیکن اس یقین کے باوجود میرے دل کو ایک لمحے کا بھی سکون نصیب نہیں ہو رہا، اسی بےچینی اور اضطراب کے عالم میں میں آپ کی خدمت میں رجوع کر رہی ہوں۔
آپ سے مؤدبانہ اور مخلصانہ درخواست ہے کہ:
1. مجھے کوئی ایسی مؤثر دعا یا عمل بتا دیجیے جس سے میرا دل مطمئن ہو جائے، اور میرے اور میرے شوہر کے دل دوبارہ پہلے جیسے ایک دوسرے کے قریب آ جائیں، اور ہمارے دلوں میں سچی محبت اور سکون پیدا ہو جائے۔
2. قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے کچھ دینی نصیحت فرما دیجیے کہ: میں اس نازک صورتحال میں اپنے شوہر کے ساتھ کیسا رویّہ اختیار کروں، تاکہ ہمارا رشتہ محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہو۔
3. نیز براہِ کرم اس امر کی بھی وضاحت فرما دیجیے کہ: دینی اعتبار سے مرد حضرات کا کسی خاتون پرسنل اسسٹنٹ کے ساتھ کام کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں، اور اگر اس کی گنجائش ہو تو اس میں کن حدود و شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آپ کے علم و عمل میں برکت دے۔ میں آپ کے جواب اور رہنمائی کی منتظر رہوں گی۔
واضح ہو کہ شریعت حسنِ ظن اور باہمی اعتماد کی تعلیم دیتی ہے۔ چنانچہ سائلہ کا بلا دلیل شوہر کے بارے میں بد گمانی کرنادرست نہیں ، لہذا سائلہ کو چاہیے کہ شیطانی وسوسوں سے بچتے ہوئے نرمی اور حکمت کے ساتھ شوہر سے گفتگو کریں اور گھر کے ماحول کو محبت و سکون کا گہوارہ بنا نے کی کو شش کریں۔ قلبی اطمینان کے لیے یہ دعا پڑھتی رہیں :(ربّنا ھب لنا من أزواجنا وذرياتنا قرة أعین) اور کثرت سے استغفار و در دو شریف کا اہتمام کریں۔
رہا مرد کا نا محرم خاتون کے ساتھ دفتری امور انجام دینا، تو ضرورت کے تحت اس کی گنجائش ہے ، بشر طیکہ خلوت سے بچا جائے، گفتگوصرف کام تک محدود ہو اور شرعی حدود کی مکمل رعایت رکھی جائے۔