اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ عمرہ پر گیا ہو اور اس نے عمرہ کے تمام ارکان (طواف، سعی اور حلق/قصر) مکمل کر لیے ہوں، لیکن ابھی تک اس نے احرام کی چادریں نہیں اتاریں اور اسی حالت میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہو، تو کیا اس پر کوئی دم یا قضا لازم ہوگی یا نہیں؟
عمرہ میں احرام سے نکلنے میں اعتبار احرام کی چادروں کا نہیں، بلکہ ارکان عمرہ (طواف، سعی، حلق/ قصر )کی ادائیگی کا ہے، چنانچہ ان ارکان کے مکمل ہوتے ہی آدمی شرعاً احرام سے نکل جاتا ہے، خواہ اس نے ابھی احرام کا لباس تبدیل نہ کیا ہو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب اس شخص نے عمرہ کے تمام ارکان ادا کر لیے تھے، اور حلق یا قصر بھی کر لیا تھا تو اس کا احرام ختم ہو چکا تھا، چنانچہ ایسی حالت میں بیوی سے صحبت کرنے سے اس پر کوئی قضا یا دم لازم نہ ہوگا۔
کما فی الشامیۃ: (والعمرة) ...(وهي إحرام وطواف وسعي) وحلق أو تقصير، فالإحرام شرط، ومعظم الطواف ركن، أو غيرهما واجب هو المختار، ويفعل فيها كفعل الحاج (وجازت في كل السنة) وندبت في رمضان (وكرهت) تحريمًا (يوم عرفة وأربعة بعدها) قوله: (وحلق أو تقصير) لم يذكره المصنف لأنه محلل مخرج منها. بحر، قوله: (وغيرهما واجب) أراد بالغير من المذكورات هنا، وذلك أقل أشواط الطواف والسعي والحلق أو التقصير،وإلا فلها سنن ومحرمات من غير المذكور هنا فافهم...وأحكام إحرامها كإحرام الحج من جميع الوجوه، وكذا حكم فرائضها، وواجباتها وسننها ومحرماتها ومفسدها ومكروهاتها وإحصارها.(كتاب الحج، مطلب: أحكام العمرة: 3/545، 546، رشيدية)-