السلام و علیکم، علمائے کرام سے یہ معلوم کرنا ہے کہ سرکاری ملازم کو جو ریٹائرمنٹ پر پنشن ملتی ہے، وہ لینا جائز ہے یا نہیں۔
واضح ہوکہ بعد از سرکاری ڑیٹائرمنٹ حکومت یا کسی بھی ادارے کی طرف سے ملازم یا اس کے قریبی رشتہ دار کو جو ماہانہ پینشن کی رقم دی جاتی ہے، چونکہ متعلقہ ادارےکی طرف سے عطیہ اور تبرع ہوتی ہے، لہذا اس کا لینا بلا شبہ جائز ہے۔
کما فی الدر المختار: (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ (وعدم صحة خيار الشرط فيها) فلو شرطه صحت إن اختارها قبل تفرقهما، وكذا لو أبرأه صح الإبراء، وبطل الشرط خلاصة اھ(ج:5 /ص: 688 کتاب الہبۃ ناشر :سعید)
وفی بدائع الصنائع: اما اصل الحکم فھو ثبوت الملك للموھوب له فی الموھوب من غیر عوض لأن الهبة تملیك العین من غیر عوض فکان حکمھا ملك الموھوب من غیر عوض ،الخ(ج:6 ص : 127 فصل فی حکم الہبۃ ناشر : مطبعۃ الجمالیہ بمصر)