السلام علیکم میرا کا م بروکری کا ہے ہم نے ایک جگہ دوپارٹیوں کو جگہ دکھائی تھی پھر دونوں پارٹیوں کی سیٹھ سے میٹنگ بھی کرائی تھی ایک پارٹی کوہم اچھے سے جانتے تھے ایک پارٹی ہمارے پاس نئی آئی تھی، ہم کوشش کر رہے تھے کہ جاننے والی پارٹی کو ہم جگہ دیدیں وہ پارٹی استخارے کی وجہ سے ٹائم مانگ رہی تھی اس دوران دوسری پارٹی نے مالک سے جاکر میٹنگ کر لی جگہ لےلی پھر ہم نے مالک کو بولا یہ بھی پارٹی ہم نے لائے تھے اس سے میٹنگ ہم نے پہلے بھی کرائی ہے اس پارٹی نے اپنے بروکر کو بروکری دیدی اب مالک بولتا ہے اس میں ہماری بروکری نہیں لینی آپ اسمیں ہماری رہنمائی فرمائیں ہماری بروکری بنتی ہے یا نہیں ۔
صورت مسؤلہ میں اگرسائل کا اس جگہ کی خریدو فروخت سے متعلق اصل مالک سے کمیشن و بروکری کا معاملہ طے ہوا ہو ، جس کی بنیاد پر سائل نے دونوں پارٹیوں کو اصل مالک سے ملایا ہو ،اور اسی ملاقات کے نتیجہ میں اصل مالک اور دوسری پارٹی کےدرمیاں خریدو فروخت کا معاملہ مکمل ہو گیا ہو ، اور مارکیٹ کے عرف کے مطابق سائل کمیشن کا حقداربھی بنتا ہو تو ایسی صورت میں مالک کے ذمہ اس معاملہ کا کمیشن سائل کو دینا لازم ہو گا۔
وفی الدر المختار :و أما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. ( ج؛ 4 کتا ب البیوع ص: 560 ناشر :دار الفکر بیروت)
وفی حاشية ابن العابدين:(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.(ج : 4 کتا ب البیوع ص: 560 ناشر :دار الفکر بیروت)
وفي موسوعۃالفقهيه الكويتية من مجلة الأحكام العدلية على أنه: " إذا اشترطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا وليس له أن يطالب بالأجرة ".أما في الحالة الثانية وهي أن يكون الوكيل من أصحاب المهن الذين يعملون بالأجر لأن طبيعة مهمتهم تقتضي ذلك كالسمسار والدلال فيستحق الوكيل الأجرة حتى ولو لم يتفق عليها(ج: ٤٥ ص: ٩١)