السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:میں دبئی میں مقیم ایک پاکستانی مسلمان ہوں، میں اس وقت شادی شدہ ہوں، اور میری پہلی بیوی نے میرے دوسری شادی کرنے پر پوری آگاہی اور رضامندی دی ہے، میں تعددِ ازدواج کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں اور عدل و انصاف اور اپنی تمام دینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا پابند ہوں، جس خاتون سے میں نکاح کرنا چاہتا ہوں وہ مصر کے صوبہ لکسور میں مقیم ایک مصری مسلمان خاتون ہیں، ان کی پہلے کبھی شادی نہیں ہوئی، اور ان کے والد کا انتقال ہو چکا ہے، انہوں نے میری ازدواجی حیثیت سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہوئے آزادانہ طور پر مجھ سے نکاح پر رضامندی ظاہر کی ہے، اور ہم عمر میں بھی قریب ہیں، میری موجودہ آمدنی تقریباً 2160 اماراتی درہم ماہانہ ہے، اور توقع ہے کہ ان شاء اللہ یہ بڑھ کر تقریباً 6000 اماراتی درہم ہو جائے گی، اس کے علاوہ میرے پاس تقریباً 5000 اماراتی درہم کی بچت بھی ہے، اور میں مہر، رہائش اور نان و نفقہ ذمہ داری کے ساتھ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں،ان کے بھائی، جو ان کے سرپرست ہیں، کسی واضح شرعی وجہ کے بغیر اس نکاح سے انکار کر رہے ہیں،میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اس معاملے میں شرعی حکم اور درست قانونی طریقۂ کار کے بارے میں رہنمائی فرمائیں،اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
سائل اگر دو بیویوں کےحقوقِ زوجیت اداکرنے اور نان و نفقہ میں انصاف اوربرابری کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا شرعاً جائز ہے۔البتہ مذکورہ خاتون چونکہ سائل کے لئے اجنبیہ ہے اس لئے سائل پر لازم ہے کہ نکاح سے قبل اس سے ہر قسم کے روابط منقطع کرے۔
کماقال اللہ تعالی : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا (النساء:3)
و فی الھندیۃ: وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك،والامتناع أولی ویؤجر بترک ادخال الغم علیھا کذا فی السراجیۃ(کتاب النکاح، الباب الحادی عشر في القسم، ج: 1،ص: 341،ط:رشیدیۃ)
و فی الدر المختار: (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا الخ (باب الولی، ج: 3، ص: 55، ط: سعید)
وفیہ ایضا: (وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافًا لمالك (نسبًا فقريش) بعضهم (أكفاء) بعض (و) بقية (العرب) بعضهم (أكفاء) بعض.( ج: 3، ص: 86، ط: سعید)
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية: قال الحنفية: الولي في النكاح العصبة بنفسه وهو من يتصل بالميت حتى المعتق بلا توسط أنثى على ترتيب الإرث والحجب، فيقدم الابن على الأب عند أبي حنيفة وأبي يوسف خلافاً لمحمد حيث قدم الأب، وفي الهندية عن الطحاوي: إن الأفضل أن يأمر الأب الابن بالنكاح حتى يجوز بلا خلاف، وابن الابن كالابن، ثم يقدم الأب، ثم أبوه، ثم الأخ الشقيق، ثم لأب، ثم ابن الأخ الشقيق، ثم لأب، ثم العم الشقيق، ثم لأب، ثم ابنه كذلك، ثم عم الأب كذلك، ثم ابنه كذلك، ثم عم الجد كذلك، ثم ابنه كذلك"(275/41، ط: وزارة الأوقاف و الشئون الإسلامية)