میں سنگا پور میں سودی قرضے پر ایک مکان خریدا ہے، میں پچھلے 8 سالوں سے سنگاپور میں کرایہ کی جگہ پر رہتا ہوں، میں اسلامی قرض کے طریقے پر لینے کی کوشش کی ، لیکن ادھر کوئی اسلامی طریقے نہیں ہیں، اب خریدنے کے بعد میں اس کو بیچنے کے لیے کوشش کرتا ہوں، مجھے اس کی بہت کم قیمت مل رہی ہے، اور 50 ہزار ڈالر کا نقصان ہو گا ، کیا میں انتظار کر سکتا ہوں ؟ کیا میں اسے کرائے پر دے سکتا ہوں؟ تب مجھے وہ قیمت مل سکتی ہے، جس پر میں نے خریدا ہے ، یا مجھے فورا بیچ دینا چائیے ، میں بہت مشکل حالت میں ہوں، مجھے ایک دو سال انتظار کرنا پڑے گا ، تب جاکر میں اسے اس قیمت پر بیچ سکتا ہوں جس پر میں خریدا تھا۔
میں اپنی والدہ ، والد اور بیوی بچوں کا کام کرنے والا ایک سرپرست ہوں، کیا مجھے نقصان کرنا چاہیے یا میں کچھ عرصے کے بعد بیچوں؟
سائل کو چاہیے کہ اپنے مذکور گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے، جبکہ مذکور مکا ن سائل کی ملک ہو گیا ہے اگر وہ اسے رکھ کر کرایہ پر چڑھانا چاہیے یا کچھ عرصہ رکھ کر بعد میں بیچنا چاہیے شرعا اس کی گنجائش ہے مگر سودی قرضہ سے جلد از جلد فراغ ذمہ کی فکر کرنی چاہیے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن المؤمن إذا أذنب كانت نكتة سوداء في قلبه فإن تاب واستغفر صقل قلبه وإن زاد زادت حتى تعلو قلبه فذلكم الران الذي ذكر الله تعالى (كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون) اھ (2/ 724)۔
و في الدر المختار: (وإذا قبض المشتري المبيع برضا) عبر ابن الكمال بإذن (بائعه صريحا أو دلالة) بأن قبضه في مجلس العقد بحضرته (في البيع الفاسد) اھ (5/ 88) ۔واللہ اعلم بالصواب
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0