میرا یہ مسئلہ ہے کہ :
میرے بڑے بھائی کی شادی کزن سے ہوئی، اب ان کی جو بیٹی ہوئی اس کو جینیٹکس مسائل ہیں، ڈاکٹر کہتے ہیں کزن میرج کی وجہ سے ہے، اب میری بھی عید کے بعد شادی تھی خالہ زاد کزن سے، اور سب تیاری مکمل ہے، میں اپنی منگیتر سے بات بھی کرتا ہوں (جو کہ غلط ہے) اور اب میں اس کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ ہوچکا ہوں، لیکن والدین کہتے ہیں، ہم وہاں رشتہ نہیں کریں گے، تاکہ بعد میں مسائل نہ ہوں، میری رہنمائی کریں، کیا یہ کرنا صحیح ہوگا اور چاہتا ہوں میں وہیں شادی کروں، والدین کو دین کی بھی سمجھ ہے، تبلیغ سے بھی گہرا تعلق ہے۔
سائل كا اپنی كزن کے ساتھ شادی کرنے کی صورت میں دیندار طبیب نے جنىاتى مسائل کے منتقلى کے غالب امکانات کا اظہار کیا ہو، جس کی وجہ سے والدین اسے اس رشتہ سے باز رکھ رہے ہوں، تو سائل کو بھی ان کی بات مان کر اس رشتہ سے دور رہنا چاہیے، تا ہم اگر وہ پھر بھی کسی طریقہ سے والدین کو راضی کر کے یہ رشتہ کر لیتا ہے، تو اس سے وہ گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
كما في تفسير ابن رجب الحنبلي: وحقيقة التوكل: هو صدق اعتماد القلب على الله عز وجل في استجلاب المصالح، ودفع المضار من أمور الدنيا والآخرة كلها، وكلة الأمور كلها إليه، وتحقيق الإيمان بأنه لا يعطي ولا يمنع ولا يضر ولا ينفع سواه.اهـ (سورة الطلاق، ج: 2، ص: 484، ط: دار العاصمة - المملكة العربية السعودية)
وفي صحيح البخاري: عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: (لا عدوى ولا صفر ولا هامة). فقال أعرابي: يا رسول الله، فما بال الإبل، تكون في الرمل كأنها الظباء، فيخالطها البعير الأجرب فيجربها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (فمن أعدى الأول). وعن أبي سلمة: سمع أبا هريرة بعد يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: (لا يوردن ممرض على مصح).اهـ (كتاب الطب، باب لا هامة، ج: 5، ص: 2177، الرقم: 5437، ط: : (دار ابن كثير، دار اليمامة) - دمشق)
وفي الدر المختار: أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة، فهي سبعة ألخ وفي رد المحتار: شروع في بيان شرط النكاح أيضا، فإن منه كون المرأة محلَّلة لتصير محلا له إلخ (فصل في المحرمات، ج: 3، ص: 28، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: (ومنها) المحل القابل وهي المرأة التي أحلها الشرع بالنكاح، كذا في النهاية. اهـ (كتاب النكاح، ج: 1، ص: 267، ط: مكتبة ماجدية)
وفي المحيط البرهاني: والمرجع في الداء إلى قول الأطباء اهـ (كتاب البيع، الفصل الرابع عشر في العيوب، ج: 6، ص: 576، ط: دار الكتب العلمية، بيروت لبنان)
وفي رد المحتار: لكن قد علمت أن قول الأطباء لا يحصل به العلم. والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن وهو شائع في كلامهم تأمل. اهـ (باب المياه، فروع التداوي بالمحرم، ج: 1، ص: 210، ط: إيج إيم سعيد)