میں نے ماضی میں لاعلمی کی بنا پر قومی بچت اور ایک اور جگہ سے سود کی رقم لے لی، اور حاصل شدہ سود کی رقم اب تک خرچ ہو چکی ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے میں نے اس پر سچی توبہ کر لی ہے۔میرا سوال یہ ہے: کیا اس سودی رقم کو اب اپنی جیب سے واپس کرنا واجب ہے، یا صرف توبہ اور استغفار کرنا کافی ہے؟
صورت مسئولہ میں سائلہ نے اگر حاصل کردہ سودی رقم خرچ کر لی ہو، تو اس پر اگرچہ بصدق دل توبہ و استغفار کرنا بھی لازم ہے، مگر اس پر فقط توبہ اور استغفار کافی نہیں، بلکہ خرچ کردہ سودی رقم کے بقدر رقم فقراء اور مساکین کو بلا نیت ثواب صدقہ کرنا بھی ضروری ہے۔
كما قال الله تعالى: ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ (البقرة: 275)
وفي مسند أحمد بن حنبل: وعن عبد الله بن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لعن الله آكل الربا، وموكله، وشاهده، وكاتبه " (ج: 6، ص: 269، الرقم: 3725، ط: مؤسسة الرسالة)
وفي صحيح البخاري: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب، ولا يقبل الله إلا الطيب، وإن الله يتقبلها بيمينه، ثم يربيها لصاحبها، كما يربي أحدكم فلوه، حتى تكون مثل الجبل).(ج: 2، ص: 511، الرقم: 1344، ط: دار ابن كثير، دار اليمامة دمشق)
وفي رد المحتار: ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 385، ط: ايج ايم سعيد)