کلرنگ پیجز یا کلرنگ بکس بنانا کیسا ہے یہ ٹرانسپیرنٹ کارٹون ہوتے ہیں پیج پرنٹ ہوتے ہیں ان میں بچے کلر کرتے ہیں پرندے جانور پھول پودے مختلف چیزیں ہوتی ہیں کیا ان کو بنا کر ویب سائٹ پہ اپلوڈ کرنا اور ان کی کمائی حاصل کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟
سائل اگر سوال میں مذکور ٹرانسپیرنٹ وغیرہ کی ڈرائنگ فقط ڈیجیٹل اسکرین کی حد تک کرتا ہو اور اسے کسی کاغذ وغیرہ پر پرنٹ کرنے کے بجائے ویب سائٹ پر اپلوڈ کرتا ہو اور ان کارٹون میں بے حیائی فحاشی عریانی کے مواد بھی شامل نہ ہوں، تو بعض معاصر علماء کی تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل تصاویر تصاویرِ محرمہ کے زمرے میں داخل نہیں، لہذا ایسی صورت میں ان کلرنگ پیجز کو بنانے، ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے، اور اس پر اجرت لینے کی گنجائش ہوگی۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : (عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ان النبی ﷺ قال : اشد الناس عذابا یوم القیامۃ بخلق اللہ)۔ (باب التصاویر،ج:8،ص:266،ط:حقانیہ)۔
و فی مرقاۃ الفاتیح : قال اصحابنا و غیرھم من العلماء : تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم ، وھو من الکبائر لانہ متوعد علیہ بھذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث ، سواء صنعہ فی ثوب او بساط او درھم او دینار او غیر ذلک ( باب التصاویر ، ج : 8 ، ص : 266 ، ط : حقانیہ )۔
و فی تکملۃ فتح الملھم : قال المرداوی فی الانصاف ( 474 / 1 ) " یحرم تصویر ما فیہ روح ، ولا یحرم تصویر الشجر و نحوہ ۔ والتمثال مما لا یشبہ ما فیہ روح ، علی الصحیح من المذاھب (الی قولہ) یحرم تعلیق ما فیہ صورۃ حیوان ، و ستر الجدار بہ و تصویرہ علی الصحیح من المذھب " ( باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان و تحریم اتخاذ ما فیہ ، ج : 4 ، ص : 159 ، ط : دار العلوم کراچی )۔
و فی الدر المختار : ( و لبس ثوب فیہ تماثیل ) ذی روح وفی رد المختار تحت قولہ : ( ولبس ثوب فیہ تماثیل ) وظاھر کلام النووی فی شرح المسلم الجماع علی تحریم صورۃ الحیوان ، و قال : وسواء صنعہ لما یمتھن او لغیرہ ، فصنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاھاۃ لخلق اللہ تعالی ، و سواء کان فی ثوب او بساط او دراھم و اناء و حائط و غیرھا (باب ما یفسد الصلوۃ و ما یکرھ فیھا ، ج : 1 ، ص : 647 ، ط : سعید)۔