آج کل بازار میں ایک نیا طرز کا احرام دستیاب ہے جسے Tubular Ihram کہا جاتا ہے۔ اس میں نیچے والی چادر پہلے سے ٹیوب کی شکل میں جڑی ہوئی ہوتی ہے، جیسا کہ اس لنک میں دکھایا گیا ہے:
deendiary.pk/products/tubular-ihram
براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ کیا اس طرح کا احرام حج اور عمرہ کے لیے شرعاً جائز ہے؟
کیا اسے پہننا مرد کے احرام کے شرائط کے مطابق درست ہے یا اس میں سِلے ہوئے کپڑے کے حکم کی وجہ سے کوئی شرعی قباحت پائی جاتی ہے؟
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح کہ احرام کی حالت میں مردوں کے لیے "سلا ہوا کپڑا" پہننا منع ہے، اور فقہاء نے "سلا ہوا کپڑا" سے مراد ایسا لباس لیا ہے جو انسانی اعضاء کی بناوٹ کے مطابق تیار کیا گیا ہو، جیسے قمیص، پاجامہ، بنیان وغیرہ۔چنانچہ احرام کے لیے مردوں کو غیر مُحیط اور غیر مُفصَّل کپڑا استعمال کرنے کا حکم ہے، یعنی ایسا کپڑا جو جسم یا اعضا کے مطابق تراشا اور سِیا نہ گیا ہو۔اس لیےمحرم کےاحرام کی لنگی ایسی ہونی چاہیے کہ اس کے دونوں کنارے (پاٹ) الگ الگ ہوں، یعنی وہ عام چادر یا کپڑے کی شکل میں ہو، جسے لپیٹا جاتا ہے۔
جبکہ مارکیٹ میں دستیاب "ٹیوبلر احرام "سلائی کے بغیر ایک ہی کپڑے کا گول سلنڈر نما" لنگی "کے مشابہ ٹکڑا ہوتاہے ،لہذااگر کسی کو احرام کی عام چادر پہننے میں ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، تو اس کے لیےمذکورہ ٹیوب نما احرام کی لنگی کےاستعمال کی گنجائش ہے،کیونکہ فقہاء کی تصریح کے مطابق یہ مُفَصَّل اور محیط کپڑوں میں شمارنہیں ہوتا، جو مردوں کے لیے حالتِ احرام میں ممنوع ہے۔
تاہم ، احتیاط کاتقاضا اور سنت کے مطابق بہتر یہی ہے کہ احرام کی لنگی عام چادر کی طرح ہو، جس کے دونوں کنارے الگ ہوں اور اسے لپیٹ کر باندھا جائے۔ بلا ضرورت پاٹ جُڑی ہوئی (ٹیوب نما) لنگی کا استعمال سے گریزچاہیے۔
کما فی صحیح المسلم : عن ابن عمر رضي الله عنهما « أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يلبس المحرم من الثياب؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تلبسوا القمص، ولا العمائم، ولا السراويلات، ولا البرانس، ولا الخفاف، إلا أحد لا يجد النعلين فليلبس الخفين، وليقطعهما أسفل من الكعبين، ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورس".(کتاب الحج، ج:4، ص:2، ط:دار الطباعة العامرة)
وفی الدر المختار: باب الاحرام: (ولبس إزار)... (ورداء) ...(جديدين أو غسيلين طاهرين) أبيضين ككفن الكفاية، وهذا بيان السنة الخ
وفی رد المحتار: (قوله وهذا) أي لبس الإزار والرداء على هذه الصفة بيان للسنة وإلا فساتر العورة كاف فيجوز في ثوب واحد وأكثر من ثوبين وفي أسودين أو قطع خرق مخيطة أي المسماة مرقعة والأفضل أن لا يكون فيها خياطة لباب۔ ( باب الاحرام، ج:2، ص:195، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
وفی غنیۃ الناسک: ( فصل في مکروهات الإحرام ومحظوراته التی لاجزاء فیها سوی الکراهة) وهی......عقد الإزار والرداء بأن یربط طرف احدهما بطرف الآخر و أن یخلله بخلال أو یشده بحبل ونحوہ".(ص:47، ط:دار رائدۃ في الطباعة)