شوهر و بیوی کے حقوق

بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر کا حکم

فتوی نمبر :
90790
| تاریخ :
2026-01-11
معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / شوهر و بیوی کے حقوق

بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ
میری شادی فروری 2024 میں ہوئی اور شادی کے چند دن بعد ہی لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے لڑائی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ساس مجھے پسند نہیں کرتی تھی اور میرے شوہر کا کام اسلام آباد میں تھا اور وہیں رہتے تھے جبکہ مجھے ساس اور سسر کے پاس سرگودھا میں رکھا ہوا تھا جون 2024 تک میں وہیں سسرال میں رہی لڑائی جھگڑے بھی چلتے رہے اور ان تمام تر لڑائی جھگڑوں میں میرا شوہر یکطرفہ حمایت اپنے والدین کی ہی کرتا تھا
فروری سے جون 2024 تک میرے شوہر کا مہینے میں ایک ہفتے کے لیے آنا جانا تھا جس میں دن بھر میرا شوہر مجھ سے گفتگو تک کرنا گوارا نہیں کرتا تھا جبکہ رات کو ہم ایک ہی گھر میں ایک ہی کمرے میں نارمل رہتے تھے
جولائی 2024 میں مجھے میرے ماں باپ سے ملنے کے بہانے میرے والد کو بلا کر مجھے میکے بھیج دیا جو کہ کراچی میں ہے ستمبر2024 تک میرا اور میرے شوہر کا کوئی رابطہ نہیں ہوا نہ میرے فون کا جواب دیتا اور نہ ہی خود کو ئی رابطہ کرتا اور نہ ہی سسرال والوں کی طرف سے کوئی رابطہ رہا اور اس تمام عرصے میں کسی قسم کا کوئی نان نفقہ نہیں دیا یہاں تک کہ شادی کے بعد کبھی نہ میرے میکے آئے اور نہ ہی کبھی کسی قسم کا آنے جانے کا کرایہ بھاڑا دیا میرے والد اپنی ہی جیب سے مجھے لانا لے جانا کرتے رہے
جب اتنا عرصہ گزرا تو میرے والد نے کسی دوسرے ذریعے سے رابطہ کیا تو اس نے جواباً کہا کہ ہم نے آپ کی بیٹی کو نصیحت یا سبق سکھانے کی غرض سے بٹھایا ہے یہ بات سن کر ہمیں بہت رنج ہوا اور صدمہ پہنچا
اسی دوران میرے دوسرے تایا کا انتقال ہو گیا تو میرے والد صاحب نے جنازے میں شرکت کرنے جانا تھا لہذا میرے شوہر نے رابطہ کر کے میرے والد کو کہا کہ اپنی بیٹی یعنی سائلہ کو بھی لے آؤ میرے والد مجھے بسانے کے ارادے سے اپنے خرچے پر مجھے واپس سسرال میں چھوڑ آئے اور دو مہینے گزر گئے ان دو مہینوں میں بھی شوہر کے ساتھ فقط 10 دن گزرے ہوں گے لیکن سسرال میں لڑائی جھگڑے ہی رہے
اس کے بعد دسمبر 2024 میں میرے والد کو میری ساس نے دوبارہ بلا کر مجھے میکے بھیج دیا اور کہا کہ اپنی بیٹی کو اور اپنے سامان کو لے جاؤ ہم طلاق نامہ بھیج دیں گے جبکہ میرے والد نے اس موقع پر میرے شوہر سے رائے مانگی تو میرے شوہر نے کہا کہ جو والدین فیصلہ کریں گے وہی ہوگا
یہ بات دسمبر 2024 کی تھی اس کے بعد اگست 2025 میں میرے شوہر اور میرے درمیان واٹس ایپ پر بات ہوئی جس میں شکوے شکایات تھیں میں جب میں نے اس کی والدہ یعنی اپنی ساس کے متعلق اسے کہا تو اس نے غصے کا اظہار کیا اور اسی گفتگو میں اس نے مجھے کہا "آزاد ہے" یہ لفظ اس نے کس ارادے سے کہا یہ مجھے معلوم نہیں
اس وقت تو میں نے کوئی توجہ نہیں دی لیکن اکثر علماء کے بیان میں نے جب بعد میں سنے تو اس میں مجھے معلوم ہوا کہ اس لفظ سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے تو تب سے ہی یہ لفظ میرے ذہن میں کھٹکنے لگا ،
اچھا اس سے قبل بھی میرے جب شوہر سے جھگڑے چل رہے تھے اور میری بات چیت واٹس ایپ پہ ہوتی تھی تو میں نے اس سے کہا اگر مجھے ذلیل ہی کرنا مقصود تھا تو مجھے طلاق دے دو جس پر اس نے انگریزی میں فقط "ok" لکھ کر بھیج دیا اور اس کے بعد بھی ہماری کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی،
دسمبر 2024 سے جنوری 2026 یعنی تاحال میں ابھی تک اپنے میکے میں ہوں اور میرا شوہر نہ کسی قسم کا خرچہ بھیجتا ہے اور نہ ہی طلاق یا خلع مانگنے پر طلاق یا خلع دیتا ہے اور جوابا کہتا ہے دھمکی آمیز الفاظ میں کہ جو کرنا ہے کر لو یا جہاں سے چاہو وہاں سے خلع یا طلاق لے لو
ابھی چند مہینے پہلے میرے سسر مجھے لینے کے لیے غرض سے آئے تھے لیکن ہم نے جانے سے انکار کر دیا تو وہ نکاح نامہ لے گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم طلاق کے پیپر آپ کو بھیج دیں گے لیکن اب تک نہیں بھیجے
اب ان تمام واقعات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آپ سے فتوی لینا چاہتی ہوں کہ آیا ان الفاظ سے جو شوہر نے ادا کیے ان سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ اور اگر میں عدالت کے ذریعے خلع کا مقدمہ دائر کروں اور شوہر دستخط نہ کرے تو کیا یک طرفہ خلع کی ڈگری جو تین مرتبہ نوٹس دے کر عدالت جاری کرتی ہے اس سے نکاح فسخ ہوتا ہے یا نہیں اگر ہوتا ہے تو کیا احکامات ہیں اور اگر نہیں ہوتا تو کیا ساری زندگی میں یوں ہی لٹکی رہوں ؟
کیا شوہر کا یہ سلوک حقوق کی ادائیگی نہ کرنا یہ سب زیادتی میں شامل نہیں ؟
پورے دو سال کی شادی کے عرصے میں فقط چھ ماہ سسرال میں رہی جس میں شوہر کے ساتھ بمشکل ہر مہینے کا ایک ہفتہ رہی ہوں گی باقی تمام عرصہ اپنے والدین کے گھر ہوں اور انہیں کوئی فکر نہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد میری زندگی برباد کرنا ہی ہے
لہذا شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو، تو سائلہ کے شوہر کا باوجود قدرت و استطاعت کے سائلہ کے ضروری اخراجات پورے نہ کرنا اور جان بوجھ کر سائلہ کو پریشان کرنا ظلم اور بیوی کی حق تلفی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے، جس کی وجہ سے سائلہ کا شوہر گناہ گار ہورہا ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل سے باز آکر بیوی کے حقوق پورے کرکے گھر بسانے کی فکر کرے، بصورت دیگر سائلہ کو اپنے حق کی وصولیابی کے لئے قانونی چارہ جوئی کرے یا بذریعہ خلع وطلاق شوہر سے علیحدگی حاصل کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔
۲.واضح ہو کہ "آزاد ہے" کا جملہ ہمارے عرف میں صریح طلاق کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے ، اور طلاق کی نیت کیے بغیر بھی اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، لیکن سائلہ نے پورا جملہ اور اس موقع کی پوری صورت حال بیان نہیں کی کہ اس کے شوہر نے کس بات کے جواب میں "آزاد ہے" کے الفاظ بولے تھے تاکہ اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جواب دیا جائے، تاہم اگر شوہر نے واضح طور پر یوں بولا کہ "تو آزاد ہے" یا سائلہ نے طلاق دینے کا کہا ہو اور شوہر نے جواب دیا ہو کہ "آزاد ہے" اور صرف ایک دفعہ بولا ہو تو ایسی صورت میں ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی جس کے بعد دورانِ عدت (تین ماہواریوں کے دورانیہ میں) شوہر کو رجوع کرنے کا حق حاصل تھا، لیکن اگست 2025 میں درج بالا صورتحال میں "آزاد ہے" کا لفظ بولنے کے بعد شوہر نے اگر رابطہ کرکے رجوع نہ کیا ہو اور سائلہ کو (حمل نہ ہونے کی صورت میں) تین ماہواریاں بھی آچکی ہوں (جو اب تک غالباً آچکی ہوں گی) تو وہ ایک رجعی طلاق، طلاقِ بائن بن گئی جس سے سائلہ کا نکاح ختم ہوگیا اور چونکہ عدت بھی گزر چکی ہے اس لئے اب سائلہ مکمل طور پر دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہے، چنانچہ اس صورت میں شرعاً عدالت سے خلع لینا لازم اور ضروری نہ ہوگا، البتہ اگر قانونی تحفظ اور اطمینان کیلئے عدالت سے خلع لے لی جائے تو اس میں مضائقہ بھی نہیں، تاہم اگر صورتحال اس سے مختلف ہو تو اس کی تفصیل دوبارہ لکھ کر اس کا حکم شرعی معلوم کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: وشرعا، (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا: هي الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالاول لمناسبة ما مر أو لانها أصل الولد(فتجب للزوجة) بنكاح صحيح،(الی قولہ) (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته الخ (کتاب النکاح، باب النفقۃ ،ج:3 ص:572 ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد الخ (باب النفقۃ ،ج3، ص:572 ط :سعید)۔
و فی شرح مختصر الطحاوي للجصاص :[ليس للحكمين في الشقاق التفريق إلا بالتفويض] قال: (وليس للحكمين في الشقاق أن يفرقا إلا أن يجعل ذلك إليهما الزوجان) قال أحمد: وروي عن علي رضي الله عنه مثل ذلك.اھ( باب مسألة الخلع، ج : ۴،ص: 456-ط : دار البشائر الإسلامية)
و فی فتح القدير للكمال بن الهمام : ولو ادعى النشوز وادعت هي ظلمه وتقصيره في حقها يفعل الحاكم ما يتفقان عليه من الجمع والتفريق، وليس لهما أن يجمعا ولا أن يفرقا بغير أمرهما ۔اھ( باب الخلع،ج :۴ ، ص : ۲۴۴ ، ط : دار الفكر)
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق بعوض۔اھ(باب الخلع،ج؛6 ص: 173 ، ط؛ دار المعرفة)
و في موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة: اتفق فقهاء المسلمين على أن الزوجين إذا وصلا إلى حالة من الشقاق و السباب و النفور و اشتد الخلاف بينهما و أشكل أمرهما و خيف من تعديهما إلى ما حرم الله أنه يبعث حكمان حكم من أهله و حكم من أهلها إن و جدا، فينظران بينهما و يفعلان ما يريان المصلحة فيه لهما من جميع أو تفريق لقوله تعالى: ﴿و إن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله و حكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما) [النساء: (٣٥).اھ( التحكيم عند الشقاق بين الزوجين، ج: ۱۶، ص: ۴۳۶، ط: دار التقوى).
وفي رد المحتار: فإذا قال " رها كردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق( کتاب الطلاق ،ج: 3، ص: 299 ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90790کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے بعد بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی اپنے شوہر سے جیب خرچی مانگ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر بیوی کی دلجوئی کے لئے میک اپ کرواسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی شوہرکے مطالبے پر بالوں پر ہرارنگ کرسکتی ہے

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا شوہر اجازت دے تو بیوی روزانہ اپنے والدین کو ملنے جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 5
  • دیور کا بھابھی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • لڑکی کے جہیز کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • سسرال والوں کا بہو سے گھر کا سارا کام لینا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نکاح نامے میں بطور حق مہر سونے کی مقدار لکھی جائے یا مالیت؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • میاں بیوی کے تنازع کا حل

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • اگر ساس بہو کو ناجائز تنگ کرے تو بیٹے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو دیے گئے زیورات کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے والدین کی خدمت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عرصہ سات سال سے بیوی کے ساتھ بات چیت نہ کرنے والے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نافرمان بیوی کے شوہر کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا پہلی بیوی شوہر کو دوسری بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے منع کر سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا بیوی پر شوہر کی ہر بات ماننا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی کے ہمبستری کے مطالبہ پر شوہر کا منع کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • ازدواجی حقوق اور نان و نفقہ ادا نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • گھریلو معاملات درست نہ ہونے پر بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • دو شادیاں کرنے کی صورت میں ہر ایک بیوی کے حقوق

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے والی بیوی کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بھوؤں کو باریک کرنے والی عورت کی نمازکا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات