السلام علیکم جناب قاری صاحب!
جناب، والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے اور بچوں کے دادا والوں نے وراثت میں سے حق ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور اب کچھ دن پہلے دادا جی کا بھی انتقال ہو گیا ہے، اور بچوں کے تایا چچا وراثت میں سے بچوں کو کچھ بھی دینا نہیں چاہتے۔ براہِ کرم قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
باپ کی ملکیت میں کچھ نہیں تھا، سب کچھ ان کے دادا جی کا تھا۔
صورت مسؤلہ میں چونکہ والد کی ملکیت میں کچھ نہیں تھا،( جیسا کہ سوال میں واضح کیا گیا ہے) سب جائیداد وغیرہ داداکی ملکیت تھی اور والد صاحب کا انتقال چونکہ دادا سے پہلے ہوا ہے اور میراث پانے کے لیے مورث کے انتقال کے وقت وارث کا زندہ ہونا ضروری ہے، لہذا مذکور پوتے دادا کی میراث میں شرعاً وارث نہ ہوں گے۔ ہاں ! اگر ورثہ مرحوم بھائیوں کے بچوں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرتے ہوئے اپنی جانب سے انہیں کچھ دے دیں تو انہیں اس کا اختیار ہے ،تاہم ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ہے۔
کما فی صحیح البخاري: عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولی رجل ذکر‘‘. باب میراث ابن الابن اذا لم یکن ابن (ج:6،ص:2477،رقم الحدیث: 6354)
وفی تکملہ فتح الملہم شرح صحیح مسلمؒ: ’’وقد ذکر الإمام أبوبکر جصاص الرازي رحمه اللّٰه في أحکام القرآن، والعلامة العیني في عمدة القاري: الإجماع علی أن الحفید لایرث مع الابن‘‘. (باب إلحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فلأولى رجل ذكر، مسئلة ميراث الحفيد عند وجود الإبن ،ج:2،ص:15، مط : مکتبة دار العلوم کراتشی)
وفیه أیضا : ’’ولو کان مدار الإرث علی الیتم والفقر والحاجة لما ورث أحد من الأقرباء والأغنیاء، وذهب المیراث کله إلی الیتامیٰ والمساکین … وأن معیار الإرث لیس هو القرابة المحضة ولا الیُتم والمسکنة، وإنما هو الأقربیة إلی المیت‘‘. (۲ج:2،ص:17/18)
وفی ردالمحتار:"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه".( كتاب الفرائض ٦/ ۷۵٦ ط:سعيد)
و فی البحر الرائق :"وأما بيان الوقت الذي يجري فيه الإرث فنقول: هذا فصل اختلف المشايخ فيه، قال مشايخ العراق: الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث، وقال مشايخ بلخ: الإرث يثبت بعد موت المورث".(9/346 ، کتاب الفرائض، ط: رشیدیہ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2