محترم مفتی صاحب / دارالافتاء!
میری شادی کو کافی عرصہ ہو چکا ہے اور ہمارا ایک 6 سال کا بیٹا ہے۔ چار ماہ پہلے ایک گھریلو جھگڑے کے بعد میری بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ جھگڑے میں اس نے مجھے نہایت نازیبا گالی دی، جسے میں یہاں نرم الفاظ میں بیان کر رہا ہوں۔ میرے والد نے بات کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی ، تو میری بیوی نے کہا کہ اسے پیدا ہوتے ہی کیوں نہ مار دیا۔ اب وہ خود علیحدگی چاہتی ہے، مگر خلع پر دستخط نہیں کر رہی اور مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ میں خود طلاق دینا نہیں چاہتا، کیونکہ یہ مطالبہ اس کی طرف سے ہے تو خلع ہی ہونا چاہیئے۔
اس کے علاوہ، ان چار ماہ کے دوران نہ صرف میری بیوی بلکہ اس کے والدین نے بھی کسی قسم کی بات چیت سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے نہ تو میرے والدین سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی کسی قسم کی صلح یا بات چیت کی کوشش کی ہے۔ اگر ہمارا کوئی رشتہ دار یا ثالث بھی بات کرنا چاہے تو وہ اس پر بات کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔اس صورتحال میں شریعت کیا کہتی ہے؟ میری ذمہ داریاں کیا ہیں اور مجھے کیا قدم اٹھانا چاہیئے؟جزاکم اللہ خیراً!
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کی بیوی کا مذکور رویہ رکھنا اور اس کے والدین کا اس سلسلہ میں ان کا ساتھ دینا ہر دو امور انتہائی درجہ نامناسب طرزعمل ہے، اس لئے اولاً تو انہیں اپنے اس نا مناسب طرزعمل سے باز آکر گزشتہ غلطی پر معافی تلافی کرکے گھر بسانے کی کوشش کرنی چاہیۓ تاکہ ان کی علیحدگی کی وجہ سے بچے کیلئے مشکلات پیدانہ ہوں، ثانیاًاگر وہ کسی بھی صورت اس رشتہ کو برقرار رکھنے کےلیے آمادہ نہ ہو بلکہ علیحدگی ہی چاہتی ہو تو ایسی صورت میں اسے مطالبہ طلاق کے بجاۓ خلع کا مطالبہ کرنا چاہئے ،پھر سائل اس کے مطالبہ خلع پر اسے علیحدگی دے سکتاہے، لیکن اگر وہ خلع کے مطالبہ کرنے پر راضی نہ ہو اور فقط سائل کی جانب سے طلاق پر اصرار کر رہی ہو توایسی صورت میں سائل حق مہر کی معافی کے عوض مشروط طلاق بھی دے سکتاہے،جس کو قبول کرنانہ کرنا عورت کی رضامندی پر موقوف ہوگا۔