السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
براہِ کرم میرے روزگار کے شرعی حکم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
میں ایک بڑے پروفیشنل سروسز ادارے میں ESG اور سسٹینیبلٹی کنسلٹنٹ کے طور پر ملازم ہوں۔ ہمارے کلائنٹس میں روایتی (کنونشنل) بینک بھی شامل ہیں۔ میرا کردار مشاورتی نوعیت کا ہے اور اس میں سودی (ربا پر مبنی) قرضوں یا معاہدات کی تیاری، منظوری، قیمت مقرر کرنا یا ان پر عملدرآمد شامل نہیں ہے۔
میرا کام عموماً درج ذیل امور پر مشتمل ہوتا ہے:
• ESG اور سسٹینیبلٹی اسٹریٹیجی
• ماحولیاتی اور ESG رسک مینجمنٹ
• ریگولیٹری کمپلائنس اور افشاء (ڈسکلوژرز)
• گورننس، پالیسیز اور اندرونی کنٹرولز
• ڈیٹا، رپورٹنگ اور آزادانہ (انڈیپنڈنٹ) جائزہ
مجھے سودی آمدن سے منسلک کوئی مراعات (انسینٹوز) نہیں ملتیں اور نہ ہی میں قرض دینے یا مالی مصنوعات کی تشکیل سے متعلق کوئی فیصلے کرتا ہوں۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کلائنٹس روایتی بینک ہیں جو سود پر کام کرتے ہیں، مگر میرا کردار بالواسطہ ہے اور رسک مینجمنٹ، اخلاقیات اور ریگولیٹری کمپلائنس تک محدود ہے، کیا اس نوعیت کی ملازمت شریعت کے مطابق جائز (حلال) ہے؟
براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں، نیز اگر اس مسئلے میں مختلف آراء یا فقہی اصول پائے جاتے ہوں تو ان کی بھی وضاحت فرما دیں تاکہ میں اطمینانِ قلب کے ساتھ عمل کر سکوں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
ESG سے مراد Environmental, Social, and Governance ہے، یعنی:
• Environmental (ماحولیاتی پہلو):
ماحولیاتی اثرات، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خطرات، کاربن اخراج، قدرتی وسائل کا استعمال وغیرہ۔
• Social (سماجی پہلو):
ملازمین کے حقوق، صارفین کا تحفظ، معاشرتی اثرات، تنوع (ڈائیورسٹی)، اور سماجی ذمہ داری۔
• Governance (انتظامی و حکمرانی پہلو):
ادارے کی گورننس، بورڈ کی نگرانی، شفافیت، داخلی کنٹرولز، اخلاقی اصول، اور قوانین کی پابندی۔
ESG کا مقصد اداروں (بشمول بینکوں) کو ان کے غیر مالی خطرات اور اثرات کی شناخت، نظم و نسق، اور بہتری میں مدد دینا ہوتا ہے، تاکہ وہ زیادہ ذمہ دار، شفاف اور پائیدار طریقے سے کام کریں
صورت مسؤلہ میں سائل کے بیان کے مطابق جب ان کی ملازمت کا تعلق سودی معاملات کی انجام دہی سےبراہ راست کسی درجے میں بھی نہیں بلکہ سائل کی ذمہ داری مذکور کاموں میں سے ماحولیاتی ،سماجی اور انتظامی قوانین کے حوالے سے مختلف اداروں کو مشاورت فراہم کرنا ہے،تو اس کے لئے مذکور ملازمت برقرار رکھنے اور اس سے ملنے والی تنخواہ کو اپنے استعمال میں لانے کی شرعاً اجازت ہے۔
وفی الھندیۃ: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع۔(ج:5،ص:342)