میں ایک سرکاری ملازم ہوں، مجھے اپنے محکمے نے ایک عدد گاڑی دی ہے، جس کی 40 فیصد قیمت ادارے نے ادا کی ہے، جب کہ 60 فیصد قیمت میں نے اپنی جیب سے اقساط میں ادا کرنی ہے،ادارے کے تحریری پالیسی کے تحت میں یہ گاڑی ذاتی اور سرکاری استعمال میں لاتا ہوں ،اس گاڑی کیلئے مجھے ماہانہ پٹرول کی ایک مخصوص مقدار ملتی ہے، اس کے علاوہ گاڑی کے مرمت کیلئے مجھے ماہانہ نقد رقم ملتی ہے جو کہ فکس ہے،میرا سوال یہ ہے کہ اگر مہینے کے آخر میں میرے استعمال سے پٹرول بچ جائے تو اس کے پیسے پمپ سے لے کر میں اپنے استعمال یا گاڑی کی مرمت کیلئے استعمال کرسکتا ہوں ؟
واضح ہوکہ کسی بھی ادارے کی طرف سے اپنے ملازمین کے لئے پیٹرول یا علاج معالجہ کی مد میں سہولت میسر کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملازم اس مقدار تک اس سہولت سے استفادہ کرسکتا ہےاور مقررہ اخراجات سے زیادہ کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہ ہوگی، لیکن مطلوبہ مقدار مکمل کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ہوتا اور نہ ہی عموماً اس سہولت میں ادارے کی طرف سے پیٹرول کے بجائے پیسے لینے کی اجازت ہوتی ہے، اس لئے سائل کو اگر کمپنی کی طرف سے پیٹرول کے بجائے پیسے لینے کی اجازت نہ ہو تو اس کے لئے پیسہ لینا جائز نہ ہوگا، تاہم اگر اس معاملہ میں ادارے کے جو قواعد و ضوابط ہیں وہ لکھ کر بھیج دیں تو ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
قال اللہ تعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (النساء: 29 الآیة)۔
و فی مشکاة المصابیح: وَ عَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَ الدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى (2/889)۔
و فی مجلة الاحکام العدلیة: (الْمَادَّةُ 875) إذَا أَبَاحَ أَحَدٌ لِآخَرَ شَيْئًا مِنْ مَطْعُومَاتِهِ فَأَخَذَهُ فَلَيْسَ لَهُ التَّصَرُّفُ فِيهِ بِوَجْهٍ مِنْ لَوَازِمِ التَّمَلُّكِ كَالْبَيْعِ وَ الْهِبَةِ وَ لَكِنْ لَهُ الْأَكْلُ وَ التَّنَاوُلُ مِنْ ذَلِكَ الشَّيْءِ اھ (ص/168)۔