میرا سوال یہ ہے کہ کیا وائی فائی انٹرنیٹ کا بزنس کرنا حلال ہے یا حرام، یا صحیح ہے یا غلط؟ اس کے علاوہ ایزی کا بزنس کرنا صحیح ہے یا غلط؟
واضح ہو کہ انٹرنیٹ کا استعمال صحیح اور غلط دونوں مقاصد کیلئے ہوتا ہے،لہٰذا صورت مسؤلہ میں وائی فائی سروس کا پراہم کرنا جائز اور اس کی آمدنی اپنے استعمال میں لانا حلال ہے۔اب اگر کوئی کنکشن لینے کے بعد اس کا غلط استعمال کرے گا تو اس کا گناہ خود استعمال کرنے والے پر ہوگا،سروس فراہم کرنے والا اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایزی پیسہ کا کاروبار ایک ایسا عقد ہے، جو گاہک اور کمپنی کے درمیان منعقد ہوتا ہے، جس میں گاہک اپنی رقم کمپنی کے ایجنٹ کودے دیتا ہے تا کہ یہ رقم مطلوبہ اور متعینہ دوسرے شہر میں جس کے لئے یہ رقم بھیجی جارہی ہے ،وہ وصول کرلے اور کمپنی اس سروس کے مقابلے میں گاہک سے ہزار یا کم و بیش کے حساب سے کچھ رقم فیس کے طور پر لے لیتی ہے، چنانچہ یہ اجارہ کا عقد کمپنی اور گاہک کے درمیان طے ہوتا ہے اور فیس کے طور پر جو رقم وصول کی جاتی ہے، یہ کمپنی کی مہیا کر دہ خدمت کی اجرت ہوتی ہے۔ اس لئے اس طرح کاروبار کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس طریقہ سے پیسے بھیجنا بھی درست ہے ۔
کما فی الأشباه والنظائر: إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضیف الحکم إلی المباشر'' ( 502جدید، شرح الحموي606)
وفی رد المحتار على الدر المختار : "قال في التتارخانیة: وفي الدلال والسمسار یجب أجر المثل، وما تواضعوا علیه أن في کل عشرة دنانیر کذا فذاك حرام علیهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن کان في الأصل فاسدًا؛ لکثرة التعامل، وکثیر من هذا غیر جائز، فجوزوه لحاجة الناس إلیه کدخول الحمام". (کتاب الإجارة،ج:6 ص:63 مط:ایچ ایم سعید)
وفی البحر الرائق شرح کنز الدقائق :"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. [فصل فی التعزیر ،ج:5، ص:44، ط: دار الكتاب الإسلامي ]
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0