کیا فر ما تے ہیں علما ء دین دوسرے کیلئے روزہ رکھوانےا و ر ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں کہ ایک شخص کی والدہ نے بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھے ا و ر بیماری کے دوران انتقال کرگئیں، انتقال کے بعد بیٹے نے فرض روزے والدہ والے رکھے، یہ ہوئے ہیں یا نہیں؟(۲)۔ ایک شخص نے ابھی تک والدہ کے انتقال کے بعد کچھ کیا نہیں ہے ا س کو کیا کرنا ہے؟
(۳)۔ ایک شخص جوکہ اہلِ تشیع کے مسلک ا و ر عقیدے سے مکمل واقف ہو ا و ر ا س کے باوجود اہلِ تشیع سے ۵۰ روپے کے حساب سے ۱۰۰ روزوں کا ۵۰۰ لے کر اپنی بیوی سے روزے رکھوائے ا و ر بعد میں یہ کہے کہ میری سا س بہت غریب ہے یہ رقم ا س کو دی ہے ا و ر روزے میری سا س نے رکھے ہیں یہ طریقہ کار درست ہے یا غلط ا و ر ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ ا س مسئلے کا حل قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل ا و ر مفصل تحریر فرمادیں تاکہ گمراہ کن عقیدے سے ایمان کا تحفظ ہوسکے۔
(۱)۔ جاننا چاہئیے کہ نماز روزہ عباداتِ بدنیہ میں سے ہیں ا و ر ان عبادات میں نیابت نہیں چلتی، پس ا گر کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھ لے یا نماز پڑھ لے تو ا س پڑھنے سے اصل شخص کا ذمہ فارغ نہیں ہوگا، البتہ فدیہ دینے کا شریعتِ مطہرہ نے حکم دیا ہے، مگر ا س میں تفصیل ہے ،وہ یہ کہ شخص مذکور کی والدہ کو بیماری کے بعد روزہ رکھنے کی قوت حاصل ہوگئی تھی ، مگر ان ایام کی قضا نہیں رکھ سکی ،بلکہ بوقتِ انتقال اتنے ایام کا فدیہ دیدینے کی وصیت کردی تھی ا و ر مرحومہ کا ترکہ بھی اتناہے کہ (کفن دفن ا و ر ا س پر واجب الادا ا گر کوئی قرض ہو تو ا س کی ادائیگی کے بعد) ا س کی ایک تہائی سے فدیہ دینا ممکن ہو تو ا س صورت میں ا س کی وصیت کے مطابق فدیہ دینا شرعاً بھی واجب ہے، ا گر ترکہ میں اتنی گنجائش نہ ہو ا و ر کوئی وارث اپنے طور پر ا س کی طرف سے فدیہ دے دے تو یہ بھی جائز ہے ا و ر اُمید ہے کہ رب کریم اُسے قبول فرماکر مرحومہ کو مواخذۂ آخرت سے محفوظ فرمادے۔
(۲)۔ اُسے چاہئیے کہ نفلی عبادت (مثلاً نماز، روزہ وغیرہ) ادا کرکے ا س کا ثواب مرحومہ والدہ کو بخش دے۔
(۳)۔ کسی دوسرے کی طرف سے نماز روزہ وغیرہ کے جواز وعدم جواز کے با ر ے میں تفصیل جواب نمبر ایک میں گزر چکی ہے ملاحظہ ہو، البتہ شخص مذکور کا بیوی سے روزے رکھواکر سا س کا نام دینا صریح جھوٹ ا و ر فسق ہے، اسی طرح ا س کا اہلِ تشیع کے سا تھ ایسے تعلقات رکھنا بھی ا س کے فاسق ہونے کی علامت ہے ا و ر فاسق کی اقتدا مکروہِ تحریمی ہے، ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں، لہٰذا جب تک وہ اپنی ناجائز حرکات سے توبہ واستغفار نہ کرے، ا س وقت تک ا س کی اقتدا میں نماز سے احتراز چاہئیے۔
اسی طرح مذکور امام پر لازم ہے کہ بلا تحقیق غلط مسائل بیان کرکے عوام کی عبادات خراب نہ کرے، اسی طرح اپنی ناجائز ا و ر غلط باتوں سے بھی مکمل احتراز کرے، تاکہ ا س کی اقتدا میں نماز شرعاً جائز طریقہ سے ادا ہوسکے۔
فی الدر المختار: ولو مات وعلیه صلوات فائتة وأوصٰی بالکفارة یعطی لکل صلاة نصف صاع من بر کالفطرة وکذا حکم الوتر والصوم وانما یعطی من ثلث ماله الخ (۲/ ۷۲)
وفی اعلاء السنن: عن عمرة بنت عبد الرحمٰن قلت لعائشة رضی اللہ عنه إن امی توفیت وعلیها صیام رمضان أن یصلح أن أقضی عنها فقالت لا ولٰکن تصدقی عنها مکان کل یوم علٰی مسکین خیر من صیامك رواه الطحاوي. (۹/ ۱۳۷)
وفیه ایضًا: عن ابن عمر رضی اللہ عنه قال لا یصلین أحد عن أحد ولا یصومن أحد عن أحد ولٰکن ان کنت فاعلا تصدقت عنه أو أهدیت رواه عبد الرزاق الخ (۹/ ۱۳۷)
فی تنویر الابصار: ویکره امامة عبد (الٰی قوله وفاسق واعمٰی) (۱/ ۵۶۰) واللہ اعلم!