DXN ایک ڈائریکٹ سیلنگ کمپنی ہے جو اپنی مصنوعات جیسے کافی، گینوڈرما، اسپرولینا، صابن اور ٹوتھ پیسٹ براہِ راست لوگوں کے ذریعے فروخت کرواتی ہے۔ کمپنی دکانوں کے بجائے افراد کو رجسٹر کرتی ہے، تاکہ وہ خود مصنوعات خریدیں، استعمال کریں اور دوسروں کو فروخت کریں۔ ہر رجسٹرڈ شخص کمپنی سے مصنوعات رعایتی قیمت پر خرید سکتا ہے اور عام صارف کو مقررہ مارکیٹ قیمت پر فروخت کر سکتا ہے۔ DXN میں کمائی دو طریقوں سے ہوتی ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ آدمی کمپنی سے کم قیمت پر پروڈکٹ خریدے اور اسے زیادہ قیمت پر عام گاہک کو فروخت کرے، اس فرق سے اسے نفع حاصل ہوتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ دوسرے لوگوں کو رجسٹر کرواتا ہے اور وہ لوگ بھی مصنوعات خریدتے اور فروخت کرتے ہیں تو ان کی فروخت کے حجم پر ایک مخصوص فیصد بطور کمیشن اس کو ملتا ہے۔ یہ کمیشن صرف اسی وقت بنتا ہے جب نیچے والی ٹیم حقیقی مصنوعات خریدتی اور بیچتی ہے۔ DXN میں کمپنی کی طرف سے کوئی الگ یا لازمی جوائننگ فیس نہیں ہوتی۔ رجسٹریشن عام طور پر مفت ہوتی ہے، البتہ اکثر لوگ رجسٹر ہونے کے بعد اپنی مرضی سے مصنوعات خریدتے ہیں، تاکہ وہ خود استعمال کریں یا آگے فروخت کر سکیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور(DXN)کمپنی میں رجسٹریشن مفت ہواوراس کے کاروبارکاطریقہ بھی واقعۃً سوال میں ذکرکردہ طریقہ کارکے مطابق ہواورکمپنی کی مصنوعات بھی حلال اور مباح ہوں، نیز رجسٹرڈ شخص کمپنی سے مصنوعات خرید کر عام صارف کو فروخت کرنے سے حاصل ہونے والے نفع کا مالک بنتا ہو، تو ایسی صورت میں کمپنی سےمصنوعات کی خرید و فروخت کا یہ طریقہ جائز اوراس سے حاصل ہونے والامنافع حلال ہوگا۔
جبکہ مذکورکمپنی کےساتھ بطورکمیشن ایجنٹ کام کرنےکے جوازیاعدم جواز کاحکم کمیشن پلان، شرائطِ رجسٹریشن، خریداری کی لازمی شرائط اور مصنوعات کی حقیقی مارکیٹ قیمت کا جائزہ لینے کے بعد ہی دیا جاسکتا ہے۔اس لیے اگرسائل کمپنی سے مکمل تفصیل معلوم کرکے دستاویزی ثبوت کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کردے تواس پرغوروخوض کے بعداس متعلق حکم شرعی سے آگاہ کردیاجائےگا۔
كما في الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.( كتاب البيوع،ج:٤،ص:٥٦٠،مط:سعيد)
وفي رد المحتار تحت:(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له(قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.(کتاب البیوع،ج:٤،ص:٥٦٠ط:سعيد)
وفی التاترخانیۃ: و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به و إن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز،فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام(کتاب الاجارۃ،ج:١٥،ص:١٣٧،ط: رشیدیۃ)