محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:امید ہےکہ آپ خیریت سے ہوں گے،میرا ایک شرعی مسئلہ ہے، براہِ کرم اس کے بارے میں رہنمائی فرما دیں،میں یورپ (Ireland) میں Uber Eats کے ذریعے فوڈ ڈیلیوری کا کام کرتا ہوں،میں شراب (Alcohol) اور سور کا گوشت (Pork) ڈیلیور نہیں کرتا،لیکن بعض اوقات جو کھانا میں ڈیلیور کرتا ہوں، اس میں چکن یا بیف شامل ہوتا ہے جو غیر اسلامی طریقے (غیر ذبیحہ) سے ذبح کیا گیا ہوتا ہے،میرا سوال یہ ہے کہ:1. کیا ایسے کھانے کی ڈیلیوری کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟2. کیا اس کام سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہے یا حرام؟3. اگر کوئی مجبوری ہو اور فوری دوسرا کام میسر نہ ہو، تو کیا کوئی گنجائش (رخصت) ہے یا نہیں؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراًوالسلام۔نام: Sher Khan'ملک: Ireland۔
واضح ہو کہ سائل اگر فوڈ ڈیلیوری میں زیادہ تر حلال اشیاء لوگوں کے گھروں تک پہنچاتا ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے فوڈ ڈلیوری کی ملازمت جائز اور اس پر ملنے والا معاوضہ حلال ہوگا، البتہ اگر اسے کبھی کبھی حرام اشیاء بھی گھروں تک پہنچانی پڑتی ہوں تو اولاً سائل کو چاہیئے کہ حتی الامکان حرام اشیاء کی ڈیلیوری سے اجتناب کیا کرے اور اگر ممکن ہو تو متعلقہ ادارہ کو مطلع کر کے حرام اشیاء کی ڈیلیوری سے بچنے کی بھر پور کوشش کرے، البتہ اس کے باوجود اگرمجبوراً کبھی کبھار ایسا کرنا پڑجائے تو اس عمل پر توبہ و استغفار بھی کرتا رہے اور حرام اشیاء کی ڈیلیوری کے عوض جتنا معاوضہ ملتا ہو، اتنی رقم صدقہ کردیا کرے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى. (ج: 2،ص:381)۔
وفی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى الخ(مبحث الاجیر الخاص،ج6،ص69،ط:سعید)۔