السلام و علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ
زید آن لائن بیرونِ ممالک میں اپنی مصنوعات (Products) فروخت کرتا ہے۔ اس کی جو آن لائن آئی ڈی اور پروفائل ہے وہ اس کے اصل نام کے بجائے ایک فرضی نام سے بنائی گئی ہے، مثلاً: تھامس پارکر یا رچرڈ نکسن وغیرہ۔
زید اپنے کلائنٹس کے ساتھ جو بھی کاروباری معاملات طے کرتا ہے، انہیں پوری دیانت داری کے ساتھ پورا کرتا ہے، نہ کسی قسم کا فراڈ کرتا ہے اور نہ ہی دھوکہ دہی، بلکہ طے شدہ پروڈکٹس بروقت اور درست حالت میں کلائنٹس تک پہنچا دیتا ہے۔
البتہ جب زید میسج، ای میل یا کال کے ذریعے اپنے کلائنٹس سے بات کرتا ہے تو وہ اپنا اصل نام ظاہر کرنے کے بجائے اسی فرضی نام سے گفتگو کرتا ہے اور یہی کہتا ہے کہ "میں تھامس پارکر بات کر رہا ہوں" یا "میں رچرڈ نکسن بات کر رہا ہوں"۔
اس صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
کیا تجارت میں اس طرح فرضی نام استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟
کیا اس طرزِ عمل کو جھوٹ یا دھوکہ کے زمرے میں شمار کیا جائے گا؟
اور ایسی صورت میں اس تجارت کا شرعی حکم کیا ہے: جائز یا ناجائز، حلال یا حرام؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما کر رہنمائی عطا فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ تجارتی یا دیگر معاملات میں اپنا نام، شناخت یا رہائشی جغرافیہ تبدیل کرنا جھوٹ اور دھوکا دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعا ً ناجائز وحرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے،اور قرآن و سنت کی صریح نصوص میں جھوٹ اور دھوکا دہی پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، یہاں تک کہ جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی گئی ہے اور جھوٹ کو منافقین کی علامات قرار دیا گیا ہے۔
لہٰذا سائل کا اپنا نام تبدیل کرنا اور خریدار کو یہ باور کرانا کہ وہ امریکی ہے اور امریکہ میں رہائش پذیر ہے، صریح جھوٹ ہے۔سائل پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے اور اس عمل سے فوراً باز آئے۔تاہم اگر فروخت کیا جانے والا پروڈکٹ حرام اجزاء سے تیار شدہ نہ ہو، اور سائل شرعی تقاضوں کے مطابق درست طریقے سے بیع انجام دے، تو ایسی تجارت سے حاصل ہونے والا نفع شرعاً حرام شمار نہیں ہوگا۔
كما قال الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ [التوبة: 119]
و في صحيح البخاري: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: (إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يَكُونَ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا).اه.(ص: 2261/5, كناب الأدب, ط: دار ابن كثير)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه): تَصْغِيرُ هِرَّةٍ. قَالَ الْمُؤَلِّفُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي اسْمِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَنَسَبِهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا، وَأَشْهَرُ مَا قِيلَ فِيهِ أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدُ شَمْسٍ أَوْ عَبْدُ عَمْرٍو، وَفِي الْإِسْلَامِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ دَوْسِيُّ. قَالَ الْحَاكِمُ أَبُو أَحْمَدَ: أَصَحُّ شَيْءٍ عِنْدَنَا فِي اسْمِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَخْرٍ.(ص: 69/1, كتاب الإيمان, ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)
و في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:(سئل) فيما إذا كان على رجل اسمه فضل الله بن أحمد وظيفة في وقف وقيد اسمه في براءة الوظيفة السيد أحمد بن أحمد فادعى فضل الله المزبور على متولي الوقف بوظيفته فأنكرها زاعما أنه قيد اسمه في البراءة السيد أحمد فهي لرجل آخر فذكر فضل الله بأن له اسمين أحدهما السيد أحمد والثاني فضل الله ويريد إثبات ما ادعاه بالبينة الشرعية فهل له ذلك ويجوز تعدد الأسماء؟
(الجواب): نعم له ذلك ويجوز تعدد الاسم شرعا وعرفا قال في التتارخانية في الخامس عشر من الدعوى غلط الاسم لا يضر لجواز أن يكون له اسمان.
وفي صور المسائل عن الفتاوى الرشيدية ادعى على رجل هو محمد بن علي بن عبد الله ثم ظهر أن اسم جده أحمد لا تبطل الدعوى لجواز أن يكون لجده اسمان وفي البزازية في السادس عشر من الاستحقاق اشترى جارية اسمها شجرة الدر واستحقت بذلك الاسم وعند إرادة المشتري الرجوع بالثمن قال استحقت مني جارية اسمها قضيب البان تصح الدعوى إن قال استحقت علي الجارية التي اشتريتها منك والغلط في الاسم لا يمنع الدعوى بعدما عرفها بذلك التعريف ولأنه يجوز أن لها اسمين اهـ فيحتمل أن له اسمين أو أن اسمه أحمد ولقبه فضل الله والله أعلم وفي الخيرية من العشر والخراج سئل في رجل تدعوه الناس محمدين واسمه الحقيقي محمد وعليه تيمار ببراءة سلطانية والمكتوب فيها اسمه الحقيقي محمد لا محمدين هل يوجب ذلك خللا في براءته أم لا؟
الجواب: لا يوجب خللا فتعدد الأسماء جائز شرعا وعرفا والمسمى واحد فإذا أتى متعنت مستدركا فيها بهذا الأمر ما هو نافذ ولا يستدرك بمثل ذلك في التعريف؛ لأن الغرض هو العلم وهو حاصل بأحد الاسمين كما هو ظاهر.اه.(39/3-38, كتاب الدعوى, ط: دار المعرفة)