السلام علیکم
براہِ کرم اس سوال کو خفیہ رکھا جائے۔
ایک عورت کی شادی کو 11 سال ہو چکے ہیں، دو بچے ہیں، اور وہ شوہر کے والدین کے ساتھ رہتی ہے۔ شوہر کی والدہ گزشتہ کئی سالوں سے وقفے وقفے سے سخت گالم گلوچ، چیخنا چلانا اور بعض اوقات مارنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ ظلم روزانہ نہیں لیکن کبھی ایک ماہ بعد اور کبھی چند ماہ بعد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ساس اپنے شوہر (سسر) کے ساتھ روزانہ لڑائی جھگڑا اور بدزبانی کرتی ہیں۔ان کی اپنی شادی شدہ بیٹی کے مطابق ان کی والدہ بچپن سے ہی گھر میں مسلسل لڑائی جھگڑا کرتی آ رہی ہیں اور انہیں نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی شادی کے صرف ایک سال بعد ہی اپنے سسرال والوں سے علیحدہ باورچی خانہ بھی قائم کر لیا تھا.عورت نے کئی مرتبہ صبر کیا، آخری جھگڑے میں اس نے کوئی جواب نہیں دیا پھر بھی ساس نے اسے گھر سے نکالنے اور شوہر سے جدا کرنے کی دھمکی دی۔رویے سے بچوں پر شدید ذہنی اثر پڑ رہا ہے اور عورت ڈپریشن اور شدید ذہنی دباؤ میں ہے، حتیٰ کہ گھر میں داخل ہوتے وقت دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ساس کا خود بھی علاج چل رہا ہے اور ڈاکٹر کے مطابق انہیں نفسیاتی مسئلہ ہے۔ شوہر اکلوتا بیٹا ہے اور الگ گھر دینے سے انکار کرتا ہے، یہ کہہ کر کہ اگر وہ والدہ سے الگ ہوا تو گناہگار ہوگا۔
سوال یہ ہے:
کیا شریعت میں بیوی پر ساس کا یہ ظلم برداشت کرنا لازم ہے؟
کیا ایسی صورت میں بیوی کا الگ رہائش کا مطالبہ شرعاً جائز حق ہے؟
اگر شوہر والدہ کی خدمت کرتے ہوئے بیوی اور بچوں کو الگ گھر دے تو کیا وہ گناہگار ہوگا؟
اگر اس ظلم اور ذہنی نقصان کی وجہ سے بیوی بچوں سمیت سسرال واپس نہ جانا چاہے تو شریعت کا کیا حکم ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ بہو کے لیے اگرچہ اپنی ساس کو والدہ کا درجہ دے کر اس سے حسنِ سلوک سے پیش آنا اس کا اخلاقی فریضہ اور سعادت مندی ہے، جس پر اسے عمل پیرا ہونا چاہیے، لیکن سوال میں درج تفصیلات کے مطابق سائلہ کے شوہر کی والدہ کا سائلہ سے توہین آمیز لہجے میں بات کرنا اور بلا وجہ چھوٹی موٹی باتوں پر انہیں ٹوک کر ان کی تذلیل کرنا قطعاً درست نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔لہٰذا سائلہ کے شوہر کے اہلِ خانہ کو چاہیے کہ چھوٹی موٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر گھریلو ماحول متاثر کرنے کے بجائے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوشگواری کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔جبکہ شوہر کے ذمہ جس طرح بیوی کے حقوق ادا کرنا لازم ہے، اسی طرح بیٹا ہونے کے ناطے والدین کے حقوق بھی اس کے ذمہ ادا کرنا لازم ہے، لہٰذا سائلہ کے شوہر کو چاہیے کہ والدہ اور اپنی بیوی کے درمیان حقوق اور مقام کے اعتبار سے عدل کرتے ہوئے دونوں کو سمجھانے کی کوشش کرے۔اور اسی گھر میں اگر اس طرح ترتیب بنانا ممکن ہو تو سائلہ کے شوہر کو اپنی بیوی کو ایک کمرہ، اٹیچ باتھ روم اور کچن دے دینا چاہیے تاکہ وہ اپنا سامان اس میں رکھ کر تالا لگا سکے۔ اس طرح کھانا پینا اور رہائش الگ ہونے کی وجہ سے آپس میں بحث اور تکرار بھی کم ہوگی اور سائلہ کے شوہر کے لیے والدین اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال بھی آسان ہوگی۔ورنہ سائلہ کے شوہر کو جلد از جلد کسی ایسی جگہ منتقل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں اس کے والدین اور بیوی بچے اس طرح الگ رہائش اختیار کریں کہ ایک دوسرے کے امور میں بے جا مداخلت کی نوبت نہ آئے اور الگ رہائش کی وجہ سے آمنا سامنا بھی نہ ہو۔ تاہم بیوی کو الگ رکھنے کی صورت میں والدین کے کھانے پینے اور دیگر ضروریاتِ زندگی میں معاونت کے لیے کسی ملازمہ وغیرہ کا انتظام بہرحال ضروری ہوگا تاکہ ان کی حق تلفی نہ ہو۔
فی سنن الترمذي :عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء. الخ(باب ماجاء فی اللعنۃ ج:3 ص : 520 ناشر: بیروت)
کما فی الجامع الاحکام القرآن: قولہ تعالیٰ: ( اما یبلغن عندک الکبر احدھما أو کلاھما ) خص حالۃ الکبر لانھا الحالۃ التی یحتاجان فیھا الی برہ، لتغیر الحال علیھما بالضعف والکبر، فالزمہ فی ھذہ الحالۃ من مراعاۃ احوالھما اکثر مما الزمہ من قبل، لانھما فی ھذہ الحالۃ قد صارا کلا علیہ، فیحتاجان ان یلی منھما فی الکبر ما کان یحتاج فی صغرہ ای یلیا منہ الخ ( سورۃ بنی اسرآئیل، آیۃ/33 ط: دارالعلم ) ۔
وفی الھندیۃ: امرأۃ ابت ان تسکن مع ضرتھا او مع احمائھا کامۃ و غیرھا فان کان فی الدار بیوت وفرغ لھا بیتاً وجعل لبیتھا غلقا علی حدۃ لیس لھا ان تطلب من لزوج بیتا آخر فان لم یکن فیھا الا بیت واحد فلھا ذلک وان قالت لا اسکن مع امتک لیس لھا ذلک الخ ( الفصل الثانی فی السکنیٰ ج1 ص 556 ط: ماجدیۃ )