باپ کی موجودگی میں چھ شادی شدہ بیٹوں میں سے ایک بیٹا فوت ہو جائے، پھر باپ بھی آٹھ سال بعد بغیر کسی وصیت کے فوت ہو جائے،تو کیا فوت شدہ بیٹے کی اولاد یعنی (پوتا،پوتی)کو شریعت محمدیہ میں دادا کی میراث میں سے کوئی حق حاصل ہے؟
واضح ہوکہ اولاد میں سے جس بیٹے بیٹی کا انتقال اپنے والدین کی زندگی میں ہوجائے، تووہ والدین کے ترکہ میں حصہ دار نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے توسط سے ان کے ورثاء کوحصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتاہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جس بیٹے کا انتقال اپنے والد کی زندگی میں ہواہے ،ان کے ورثاء (بیٹے،بیٹیوں)کو اپنےدادا کی میراث میں سے حصہ نہیں دیا جائے گا۔تاہم اگر دیگر تمام ورثاء عاقل وبالغ ہوں اوروہ صلہ رحمی کے طورپرباہمی رضامندی سے اپنے مرحوم بھائی کے بچوں (بھتیجے ،بھتیجیوں)کو کچھ دینا چاہیں، تو انہیں اس کا اختیار حاصل ہے،اوریہ ان کی طرف سے تبرع واحسان شمارہوگااوریقیناًان کے لیے باعث اجروثواب اورذخیرہ آخرت ہوگا،تاہم ایسا کرنا شرعاًان پر لازم وضروری نہیں۔
کما فی رد المحتار: وشروطه ثلاثة موت مورث حقيقة او حكما كمفقود او تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة او تقديرا كالحمل والعلم بجهة ارثه اھ (كتاب الفرائض ج 6 ص 757 ط ايچ ام سعید)
وفی المبسوط للسرخسی: وانما تحقق الوجوب له عند الموت ولان المانع صفة ولا يعرف ذلك الا عند الموت لان صفة الوراثة لا تكون الا بعد بقاء الوارث حيا بعد موت المورث اھ (باب الوصية للمورث الخ ج 27 ص 176 ط اسلامية)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2