السلام علیکم! میں ایک شرعی مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، میں ایک سرکاری ادارے میں کام کرتا ہوں،۔ میرے ساتھ کچھ کولیگز ہیں، جو لیٹ سیٹنگ لیتے ہیں، یعنی اضافی پیسے، لیکن ڈیوٹی بہت کم کرتے ہیں۔ قوانین کے مطابق اگر کوئی دو گھنٹے سے زیادہ بیٹھتا ہے تو وہ اس کا حقدار ہوتا ہے، لیکن وہ لوگ صرف آدھا گھنٹہ بیٹھ کر لیٹ سیٹنگ لے لیتے ہیں۔ مجھے بھی کہا جا رہا ہے کہ میں بھی لے لوں، لیکن میں نے انہیں بتایا کہ میں اس کا حقدار نہیں ہوں اور زیادہ دیر نہیں بیٹھتا۔ ایک کولیگ نے جواب دیا کہ افسر کو اگر کسی دوسرے افسر کی جگہ چارج ملتا ہے تو اسے اضافی پیسے ملتے ہیں، اور ہم چھوٹے اسٹاف، جیسے نائب قاصد، اپنے کام سے زیادہ کام کرتے ہیں لیکن اضافی پیسہ نہیں ملتا۔ یہ رقم ہم انعام کے طور پر لے سکتے ہیں۔ ہمارے سیکشن میں تین لوگوں کی گنجائش ہے، لیکن تیسرا بندہ ابھی تک ایڈمن کی طرف سے نہیں آیا۔ دوسرا بندہ اکثر غیر حاضر رہتا ہے، کسی دن چھٹی کر لیتا ہے یا لیٹ آتا ہے، جس کی وجہ سے مجھے اکیلے سارے کام دیکھنے پڑتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کام ختم کر کے فوراً دوسرا کام شروع کرنا پڑتا ہے۔ میں اکیلا ہوں جو دفتر کے کام دیکھتا ہوں، اور باہر کا کوئی کام آئے تو وہ بھی دیکھ لیتا ہوں، لیکن مجھے اس کا کوئی اضافی فائدہ نہیں ملتا۔ افسر اور اسٹاف کے اضافی اور باہر کے کام جو میں کرتا ہوں، وہ بھی مجھے کچھ چیزیں انعام کے طور پر نہیں دیتے۔ اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی کیا ہے؟ کیا میں یہ سوچ کر انعام کے طور پر لیٹ سیٹنگ لے سکتا ہوں؟
واضح ہوکہ ملازم دورانِ ملازمت صرف اسی قدر اجرت کا حق دار ہوتا ہےجو معاہدہ، قواعد وضوابط اور مقررہ ڈیوٹی کے مطابق ہو۔ لہذا اگر قوانین کے مطابق لیٹ سیٹنگ( اضافی معاوضہ) صرف اسی صورت میں ملتی ہو جب واقعی مقررہ وقت ( مثلاً دو گھنٹے یا اس سے زیادہ) اضافی ڈیوٹی انجام دی جائے، تو حقیقتاً اس شرط کے بغیر لیٹ سیٹنگ لینا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ بلا استحقاق اجرت وصول کرنا ہے، جو دھوکہ دہی وخیانت کت زمرے مین آتاہے، جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
رہا یہ عذر کے ” افسران کو اضافی مراعات ملتی ہے” یا ” ہم کم درجے کے ملازم زیادہ کام کرتے ہیں“ شرعاً ناجائز رقم لینے کا جواز نہیں بن سکتا ، کیونکہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ اگر سائل واقعی اپنے فرائض کے علاوہ اضافی کام دوسرے ملازم کی غیر حاضری میں اس کی ذمہ داریاں ، یا دفتر کے باہر کے کام انجام دیتے ہیں، تو اس کا درست اور شرعی طریقہ یہ ہے کہ آپ باقاعدہ طور پر متعلقہ افسران یا انتظامیہ کے سامنے اضافی معاوضے کی درخواست رکھیں۔ ان کی منظوری کے بغیر خود سے کسی رقم کو ” انعام “ سمجھ کرلینا جائز نہیں۔ جس سے احتراز چاہیے۔
کما قال تعالیٰ: وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا(الإسراء: ٣٤)-
وفی الھندیۃ: يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين، كذا في المضمرات. ويعتبر ابتداء المدة مما سمى، وإن لم يسم شيئا فهو من الوقت الذي استأجرها، كذا في الكافي.اھ (الباب الثالث في الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة، ج: 4، ص: 415، ناشر: دار الفکر)-
وفی شرح المجلۃ: الأجیر الخاص یستحق الأجرۃ إذا کان فی مدۃ الإجارۃ حاضراً للعمل اھ (ج: 2، ص: 239، ناشر: مکتبۃ اسلامیۃ)-
وفی الدر المختار:(والثانی) وھو الأجیر (الخاص) ویسمی أجیر واحد (و ھو من یعمل لواحد عملاً مؤقتاً بالتخصیص و یستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ و إن لم یعمل کمن استوجر شھراً للخدمۃ أو)(اھ باب ضمان الأجیر، ج: 6، ص: 69، ناشر:سعید)-
وفی الدر المختار: وفیہ: سئل ظھیر الدین عمن استأجر رجلاً لیعمر لہ فی الضیعۃ فلما خرج نزل المطر فامتنع بسببہ ھل لہ الأجر؟ قال لا اھ (باب ما يجوز من الاجارة وما يكون خلافا فيها أي في الاجارة، ج: 6، ص: 43، ناشر: سعید)-