کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے بڑوں نے یعنی دادا اور والد صاحب سود کا کام کرتے تھے انڈیا میں جس کی ساتھ کپڑوں کا کاروبار بھی کرتے تھے، شروع میں سود کا کاروبار اور آمدنی زائد تھی، جبکہ بعد میں کپڑوں کا کاروبار اور اس کی آمدنی زائد ہوگئی ، بعد میں میرا چھوٹا بھائی بھی اس سودی کام میں شریک ہوا صرف میں اور بڑا بھائی اس کام میں ملوث نہیں ہوئے، پھر ہمارے والد صاحب اپنے بھائیوں سے علیحدہ ہو گئے، جبکہ تقسیم کا روبار اس طریقے سے ہوئی کہ ان کے حصے میں کپڑوں کا کاروبار آگیا، جبکہ ہمارے حصہ میں یہ سودی کاروبار آگیا کچھ عرصہ بعد ہم نے یہ سودی کاروبار بند کیا اور چچا سے دولاکھ روپے قرض لیکر دوکان کھولی، اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی سے بعد میں ہم نے کئی اور دکانیں اور اپنا گھر وغیرہ بنایا، لیکن اب دل مطمئن نہیں ہوتا اس لیے کہ ہم نے ابتداءً سودی کاروبار بھی کیا تھا ،دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ہمارے لئے ان دوکانوں کی کمائی اور گھر میں رہائش وغیرہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر نا جائز ہے، تو جواز اور حلت کی کوئی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ،
نوٹ : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کے سودی کاروبار کا طریقہ کار یہ تھا کہ ان کے والد صاحب کسی کو ایک لاکھ روپے قرض پر دیتا پھر جب تک مقروض وہ ایک لاکھ روپے ادا نہ کرتا تو ان سے ماہانہ پانچ ہزار روپے لیتا تھا۔
جب موجودہ کاروبار کی بنیاد چچا سے لیے قرض پر ہے ،اور وہ حلال ہے تو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جبکہ مذکور اشیاء کا استعمال بھی ان کے لیے جائز ہے،تاہم پہلے معاملات میں اگر کسی کا حق ان کی طرف نکلتا ہو تو اس کی ادائیگی اور بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے۔
کمافي الدر المختار: و في حظر الأشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها إلا في حق الوارث، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموال، وسنحققه ثمة. (5/ 99)۔
وفى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله إلا في حق الوارث إلخ) أي فإنه إذا علم أن كسب مورثه حرام يحل له، ( الى قوله) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه اھ (5/ 99)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0