السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں اپنے والدِ مرحوم کی جائیداد (ترکہ) کی شرعی تقسیم کے بارے میں مکمل رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا، اور وہ اپنے پیچھے جائیداد چھوڑ گئے۔ ہم صرف دو بیٹیاں ہیں۔ ہماری والدہ والد صاحب سے پہلے فوت ہو چکی تھیں۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت زندہ ورثاء یہ تھے: دو بیٹیاں (ہم دونوں) ایک بھائی (ہمارے تایا صاحب) دو بہنیں (ہماری دونوں پھوپھیاں) قانونی ضرورت کے تحت ہم نے عدالتی ڈگری اپنے نام پر لی اور بعد میں جائیداد کی رقم وصول کی۔ اب ہم اس رقم کو شریعت کے مطابق پورے انصاف کے ساتھ تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
(1)پہلی پھوپھی کا مسئلہ ہمارے والد صاحب کے بعد سب سے پہلے پہلی پھوپھی کا انتقال ہوا۔ ان کے شوہر پہلے فوت ہو چکے تھے ،ان کی صرف ایک بیٹی ہے ،ہمارا سوال: والد صاحب کے ترکہ میں جو حصہ پہلی پھوپھی کا بنتا ہے، ان کی وفات کے بعد وہ حصہ ان کی واحد بیٹی کو شرعاً کس طرح منتقل ہوگا؟ کیا وہ پورا حصہ لے گی یا اس کا کوئی مقررہ حصہ ہے؟
(2)دوسری پھوپھی کا مسئلہ بعد میں دوسری پھوپھی کا انتقال ہوا۔ ان کی اولاد: پانچ بیٹےاور دو بیٹیاں، ہمارا سوال: والد صاحب کے ترکہ میں ان کا حصہ ان کے بچوں میں کس شرعی اصول کے تحت تقسیم ہوگا؟
(3) تایا صاحب (کلالہ) کا مسئلہ تایا صاحب کا انتقال سب سے آخر میں ہوا۔ وہ کلالہ تھے، نہ بیوی، نہ اولاد ،والدین بھی پہلے فوت ہو چکے تھے ،والد صاحب اور دونوں پھوپھیاں بھی ان سے پہلے وفات پا چکے تھے، ہم دونوں تایا صاحب کی بھتیجیاں ہیں۔ ہمارے ایک چاچا بھی تھے ،جو والد صاحب سے پہلے فوت ہو گئے تھے، ان کے دو بیٹے موجود ہیں۔ ہمارا سوال: تایا صاحب کا ترکہ شرعاً کس کو ملے گا؟ کیا یہ ہم بھتیجیوں کو ملے گا؟ یا اس میں وہ بھتیجے بھی شامل ہوں گے، جن کے والد والد صاحب سے پہلے فوت ہوئے تھے؟
(4) والدِ مرحوم کے ترکہ کے اصل وارث اور ان کے حصے براہِ کرم واضح فرمائیں کہ والد صاحب کے ترکہ کے اصل وارث کون ہیں؟ اور ہر وارث کا شرعی حصہ کتنا بنتا ہے؟
(5) اخراجات کا مسئلہ : ہم انہیں “equal” تقسیم کرنا چاہتے ہیں ،جائیداد کی رقم حاصل کرنے کے دوران وکیل کی فیس، ٹیکس، قانونی کارروائی ،دیگر ضروری اخراجات ،یہ تمام اخراجات شروع سے آخر تک صرف ہم دو بہنوں نے ادا کیے ہیں۔ اب ہم یہ تمام اخراجات تمام وارثوں میں برابر طور پر (equal)” تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا سوال: کیا شرعاً ہم ان اخراجات کو تمام وارثوں پر برابر تقسیم کر سکتے ہیں؟ یا اس کے بارے میں کوئی خاص شرعی اصول ہے؟ براہِ کرم ان تمام امور کا واضح شرعی حکم اور دلیل تحریر فرمائیں،تاکہ ہم پوری دیانت داری کے ساتھ وراثت کی تقسیم شریعت کے مطابق مکمل کر سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً ۔
صورتِ مسئولہ میں والدِ مرحوم کے انتقال کے بعد ترکہ کے متعلق ضروری قانونی اخراجات اگر سائلہ اور اس کی بہن نے ذاتی رقم سے کیے ہوں تو اس صورت میں تقسیمِ ترکہ سے قبل مذکور اخراجات ترکہ سے منہا کرنے کے بعدبقیہ ترکہ تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگا،جیساکہ آگے آرہاہے۔
اس کے بعدواضح ہوکہ سائلہ کےوالد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ سو چونسٹھ(864) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو دوسو اٹھاسی (288) حصے ، بھانجی(سائلہ کی پہلی پھوپھی کی بیٹی) کو چھتیس(36) حصے،پانچوں بھانجوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) حصے، دونوں بھانجی(سائلہ کی دوسری پھوپھی کی دوبیٹیوں) میں سے ہر ایک کو سات(7) حصے، جبکہ دونوں بھتیجوں میں سے ہر ایک کو چوراسی(84) حصے دیے جائیں۔
کمافی درر الحکام: إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة:الاحتمال الأول - أن يكون المعمر صرف بإذن وأمر الشريك الآخر من ماله قدرا معروفا وعمر الملك المشترك للشركة أو أنشأه مجددا فيكون قسم من التعميرات الواقعة أو البناء ملكا للشريك الآمر ولو لم يشترط الشريك الآمر الرجوع على نفسه بالمصرف بقوله: اصرف وأنا أدفع لك حصتي من المصرف. وللشريك المأمور الذي عمر الرجوع على شريكه بحصته أي بقدر ما أصاب حصته من المصرف بقدر المعروف يعني إذا كان الملك مناصفة فيأخذ منه نصف المصرف وإذا كان مشتركا بوجه آخر فيأخذ المصرف على تلك النسبة الخ(الكتاب العاشر:الشركات، الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة، الفصل الأول في بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى،ج:3،ص:314، ط:دارالجيل)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2