السلام علیکم!جناب مفتی صاحب! میری بہن کا شوہر نہ کوئی کام کرتا ہے اور نہ ہی گھر کا خرچہ اٹھاتا ہے، ان کے دو بچے ہیں، لیکن وہ ان کی بھی کوئی ذمہ داری نہیں لیتا،جب میری بہن اسے کچھ کہتی ہے تو وہ اسے گالیاں دیتا ہے، ہم نے کئی بار سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کا گھر بس جائے، لیکن وہ نشہ کرتا ہے، شراب پیتا ہے، اور گھر پر بھی شراب کے نشے میں ہوتا ہے،اس صورت میں خلع لینا جائز ہوگا یا نہیں؟آپ کے جواب کا منتظر۔
صورت مسؤلہ اوّلاً سائل کی بہن کو چاہیے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق گھر کو آباد رکھنے کی کوشش کرے، اور خاندان کے بزرگوں کے ذریعے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کرے، ممکن ہے کہ بزرگوں کی نصیحت سے شوہر اپنی بری عادات چھوڑ دے اور اہلِ خانہ کی کفالت اپنی ذمہ داری سمجھ کر پوری کرنے لگ جائے، لیکن اگر شوہر شراب کا مستقل عادی ہو، اور بار بار سمجھانے کے باوجود اس عمل سے باز نہ آ رہا ہو، اور سائل کی بہن کے لیے حدودِ اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس کے ساتھ نباہ ممکن نہ ہو، تو اس صورت میں وہ طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے، اور ایسا کرنے سے وہ گناہگار بھی نہ ہوگی، تاہم شوہر نہ تو نان و نفقہ دینے کے لیے تیار ہو، اور نہ ہی بیوی کو طلاق دے کر آزاد کر رہا ہو، تو ایسی صورت میں عدالت کے ذریعے فسخ ِنکاح کی ڈگری بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
کما فی الدرالمختار: (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح،(الی قولہ) (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته الخ (ج3 ص572 باب النفقۃ ط سعید)۔
وفیہ ایضاً: (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد الخ (ج3 ص572 باب النفقۃ ط سعید)۔
و فی فتاوی شامی: وأما الطلاق، فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه ، وهو معنى قولهم: الأصل فيه الحظر ، والإباحة للحاجة إلى الخلاص ، فإذا كان بلا سبب أصلاً لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص، بل يكون حمقاً وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها ، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى ، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة ، كما قيل ، بل هي أعم كما اختاره في الفتح فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعاً يبقى على أصله من الحظر ، ولهذا قال تعالى : ﴿فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلاً﴾ (النساء : 34) أي لا تطلبوا الفراق ، وعليه حديث: ’’ أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق‘‘. قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات، أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة،( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 228، ط: سعید)-