السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک کاروباری معاملے کے متعلق شرعی اور اخلاقی رہنمائی چاہتا ہوں۔ میرے برادر نسبتی نے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل، اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ ایک کاروبار شروع کیا۔ ایک موقع پر میں بھی اس کاروبار میں ان کا شریک بن گیا، اگرچہ میں نے کوئی مالی سرمایہ نہیں لگایا، صرف وقت اور محنت سے تعاون کیا۔ کچھ عرصے بعد میرے دوسرے برادر نسبتی نے پہلے والے سے رابطہ کیا اور اپنی کمپنی کے ذریعے درآمدات (imports) کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی، پھر ایک شراکت داری کی تجویز دی۔ انہوں نے مجھے کاروبار میں ملازمت کی پیشکش بھی کی، جو میرے لیے ناقابلِ قبول تھی۔ ان کی شراکت داری کے دوران، تمام گاہک پہلے والےنے متعارف کروائے، جبکہ دوسرے نے معمولی سرمایہ لگایا۔ بعد میں جب ان کی شراکت ختم ہو گئی توپہلے والے نے انہی گاہکوں سے رابطہ کرنا شروع کیا اور وہی مصنوعات سستے داموں بیچنے لگے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے درآمدات کا آغاز کیا تھا، اس لیے انہیں مکمل حق حاصل ہے۔ اس کے بعد دوسرے نے مجھے دوبارہ شراکت داری کی دعوت دی اور اس بار میں نے مالی سرمایہ بھی لگایا۔ میرا سوال یہ ہے:
کیا جناب پہلے والے کی آمدنی شرعی طور پر جائز ہے، جب کہ وہ ان گاہکوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو کسی اور نے محنت سے بنائے تھے اور انہوں نے کاروبار میں بہت کم حصہ ڈالا؟
اخلاقی اعتبار سے بھی کیا ان کا یہ عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق دیانت، انصاف اور کاروباری اخلاقیات کے لحاظ سے درست ہے؟براہ کرم اس معاملے میں شرعی فتویٰ اور اخلاقی پہلوؤں کے ساتھ مفصل رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ جس طرح اسلام نے تاجروں کو خریداروں کی ضروریات کا سامان مہیا کرکے ان کی خدمت کی تعلیم دی ہے، اسی طرح تاجروں کو آپس میں تعاون اور اچھے برتاؤ کی بھی ترغیب دی ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، دوسرے کے سامان کی فروخت میں رکاوٹ ڈال کر اسے نقصان پہنچانے، اور مقابلہ بازی کرکے قیمتیں گرا کر دوسرے کے خریداروں کو اپنی طرف کھینچنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مومن وہ ہے جس سے لوگوں کے اموال اور جانیں محفوظ ہوں“۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے ایک برادر نسبتی کا دوسرےکے گاہک وں کو اپنی کاروباری شراکت ختم ہونےکے اعلان کیے بغیر مال فروخت کرنااور گاہک کاسابقہ شراکت داری کو مد نظر رکھتے ہوئےاس سے چیز خریدنا غیر اخلاقی عمل ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ تاہم اگر وہ چاہتاہےکہ اس کا کاروبار اخلاقی اعتبار سے بھی درست ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ سابقہ شراکت داری کے ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئےکسی قسم کی دھوکہ دہی دیے بغیر صاف اور شفاف معاملات کرے، مذکور طرزِ عمل کی وجہ سے مذکور برادر نسبتی اگرچہ گناہ گار ہوا ہے، جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور دوسرے سے معذرت کرنی چاہئیے، مگر اس کی وجہ سے اس کی کمائی کو شرعاً حرام قرار نہیں دیا جاسکتا۔
کما فی سنن أبي داود: حدثنا مسدد، حدثنا يحيي، عن اسماعيل بن أبي خالد، حدثنا عامر، قال: أتى رجل عبد الله بن عمرو وعنده القوم حتى جلس عنده، فقال: أخبرني بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه"(باب فی الھجرۃ ھل انقطعت، ج: 4، ص: 138، ناشر: دار الرسالۃ العالمیۃ)-
وفی فضل رب البرية في شرح الدرر البهية: اختلف أهل العلم في معنى (لاضرر)،و(لا ضرار) فقال بعض أهل العلم: المعنى واحد، لا ضرر ولا ضرار بنفس المعنى، الجملة الثانية مؤكدة للجملة الأولى، ومعناهما نفي الضرر في الشرع بغير حق. وقال آخرون: بينهما فرق، فقالوا: الضرر: أن يُدخِل على غيره ضرراً بما ينتفع هو به، والضرار: أن يُدخل على غيره ضرراً بلا منفعة له به.وقيل: الضرر: أن يضر بمن لا يضره، والضرار: أن يضر بمن قد أضر به على وجهٍ غير جائز، كأن يتجاوز الحد في الإضرار به. وعلى كل حال فالنبي صلى الله عليه وسلم إنما نفى الضرر والضرار بغير حقٍّ، فإيقاع الضرر بالآخرين بغير حق محرَّم اھ (باب الرھن، ص: 443، الشاملۃ)-
وفی درر الأحکام فی شرح مجلۃ الأحکام: الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها اھ (المادة: 153، ج:1، ص: 124، ناشر: دار الجیل)-