عثمان اپنی فصل لے کے آیا ہے علی کے پاس، علی نے فصل بیچ دی آگے ،اب عثمان نے رقم لینی ہے علی سے ،علی نے آگے سے لینی ہے رقم، علی نے کمیشن کا ٹنا ہے عثمان سے کیا منافع لینا جائز ہے یہ علی کیلئے؟
صورت مسئولہ میں اگر عثمان نے علی کو فصل فروخت کرنے کا باقاعدہ وکیل بنایا ہو ، جس پر انھوں نے باہمی رضامندی سے کمیشن بھی مقرر کیا ہو، تو ایسی صورت میں علی کا عثمان سے فصل بیچنے کے عوض طے شدہ کمیشن لینا جائز و درست ہے ، شرعا اس کمیشن کی رقم کو اپنے استعمال میں لانے میں بھی کوئی مضائقہ نہ ہوگا ۔
كما في ردالمحتار: قال في البزازية إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل (باب اجارة الفاسدة ،ج:٦،ص:٤٧،ناشر ايچ ایم سعید)
وفي بدائع الصنائع : والسمسار هو الذي يبيع أو يشتري لغيره بالأجرة فهو محمول على ما إذا كانت المدة معلومة وكذا إذا قال بع لي هذا الثوب ولك درهم وبين المدة وإن لم يبين فباع واشترى فله أجر مثل عمله لأنه استوفى منفعته بعقد فاسد(كتاب الاجارة،ج:٤،ص:١٨٤،ناشر:ايچ ایم سیعد)
وفي الشامية: قال في التاترخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه الى قوله وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه(مطلب في اجرة الدلال ،ج:٦،ص:٦٣،ناشر : ايچ ایم سیعد)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0