آمدنی و مصارف

آنلائن اور شئیرز کے کاروبار کی کمائی کا حکم

فتوی نمبر :
88679
| تاریخ :
2025-11-09
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

آنلائن اور شئیرز کے کاروبار کی کمائی کا حکم

مجھے آپ سے سوال یہ کرنا تھا کہ آج کل زیادہ تر کام آن لائن ہو رہا ہے، جیسے آن لائن ٹریڈنگ سونے میں بھی اور کرنسی میں بھی ، تو کیا یہ جائز ہے اپنی رقم لگا کر انویسٹ کرنا آن لائن؟، جیسے میٹا 5 ٹریڈنگ ایپ پر ؟ اور میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سٹاک ایکسچینج حلال ہے ؟ میرا مطلب اس میں انویسٹمنٹ کرنا۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ آن لائن ٹریڈنگ کی جو صورتیں اس وقت رائج ہیں، وہ نہ صرف شرعی اصول و ضوابط کے خلاف ہوتی ہیں، بلکہ ان میں سے بیشتر صورتیں قمار اور جوئے کے لئے استعمال ہوتی ہیں، لہذا اس قسم کے آن لائن ٹریڈنگ کے کاروبار سے بچنا چاہیئے۔ سوال میں مذکور”میٹاٹریڈر5“بھی آن لائن کاروبارکی ایک قسم” فاریکس ٹریڈنگ“ کاہی ایک پلیٹ فارم ہے،اورفاریکس ٹریڈنگ کے کام کابیشترحصہ ناجائزاورحرام امورپرمشتمل ہونےکی وجہ سےشرعاًدرست نہیں ،لہذااس سے متعلقہ ہرقسم کی کاروباری سرگرمیوں سے گریزکرنا چاہیئے۔
جبکہ اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری درجِ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جائے تو اس صورت میں یہ بلاشبہ جائز اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز اور حلال ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں، اس کا اصل کاروبار حلال ہو، اور اس کا کاروبار میں کسی قسم کا سودی قرض کا عنصر نہ ہو۔
(2) اس کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثے بھی وجود میں آچکے ہوں، یعنی صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں، ورنہ فیس ویلیو کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید وفروخت جائز ہوگی۔
(3) ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو، بلکہ آمدنی سے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو۔
(4) نفع ونقصان دونوں میں شراکت ہو۔
(5) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے تو اس کی سالانہ میٹنگ میں سود کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔
(6) جب منافع تقسیم ہوں تو دیکھ لیا جائے کہ نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کردے۔
یہ تب ہے جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا ہو، ا اور پھر گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ نفع حاصل کرنا ہو، لیکن بعض لوگ اس مذکور غرض سے نہیں خرید تے، بلکہ ان کا مقصد کیپیٹل گین ہوتا ہے یعنی وہ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، چنانچہ اس کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں، اور پھر چند روز بعد جب قیمت بڑھ جاتی ہے، فروخت کر دیتے ہیں ،اور نفع حاصل کرتے ہیں، اس کی بھی شرعاً مذکور شرائط کے ساتھ گنجائش ہے ۔ لیکن اس کو درست کہنے کی دشواری سٹہ بازی کے وقت پیش آتی ہے جو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا، بلکہ آخر میں جا کر آپس کا فرق (ڈیفرنس) برابر کیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیشِ نظر ہوتا ہے ،لہذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو اور نہ لینا مقصود ہو اور نہ دینا مقصود ہو، بلکہ اس طرح سٹہ بازی کر کے ڈیفرنس کو برابر کر لینا مقصود ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے، اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح بعض اوقات شئیرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی ان کو آگے فروخت کر دیا جاتا ہے ،اس کی بھی شریعت میں اجازت نہیں ہے، کیوں کہ شیئرز پر قبضہ ضروری ہے ،اور شیئرز کا قبضہ یہ ہے کہ شیئرز ہولڈر اس کے نفع ونقصان کا حقدار بن جائے، جس کو رسک میں آنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس میں عام طور پر دو سے تین دن لگ جاتے ہیں، لہذا رسک میں آنےسے قبل شیئرز بیچنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللّٰہ تعالى : يا أيها الذين آمنوا انما الخمر و الميسر و الانصاب و الازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون الآية (سورة المائدة ، آیت: 9)ـ
وفی صحیح البخاری: عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ قال: قال النبی ﷺ الحلال بین والحرام بین وبینھما امور مشتبھۃ فمن ترک ما شبہ علیہ من الإثم کان لما استبان لہ اترک ومن اجترأ علی ما یشک فیہ من الإثم أوشک أن یواقع ما استبان والمعاصی حمی اللہ من یرجع حول الحمی یوشک أن یواقعہ الخ (ج: 2،ص: 1000، باب الحلال بین و الحرام بین ، ط: البشرٰی)۔
وفی رد المحتار : تحت: (قولہ لأنہ یصیر قمارا) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ و ینقص أخرٰی، و سمی القمار قمارا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ إلی صاحبہ و یجوز أن یستفید مال صاحبہ و ھو حرام بالنص (إلی قولہ) لأن القمار ھو الذی یستوی فیہ الجانبان فی احتمال الغرامۃ علی ما بینا اھ الخ (کتاب الحظر و الإباحۃ، ج: 6، ص: 403، ط: ایچ ایم سعید)ـ
و فی تکملۃ فتح الملھم : قولہ” کاتبہ “ لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا، کالکتابۃ أو الحساب، فذلک حرام لوجھین: الأول : إعانۃ علی المعصیۃ، والثانی: أخذ الأجرۃ من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا، و أما إذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال،اھ (باب لعن آکل الربا وموکله ، ج: 1 ، ص: 619 ، ط: دارالعلوم کراچی)ـ۔
وفی الدر المختار : الحرمۃ تتعدد مع العلم بہا الا فی حق الوارث وقیدہ فی الظہیرۃ بان لا یعلم ارباب الاموال الخ
وفی رد المحتار: تحت : (قوله الا فی حق الوارث الخ) (الی قوله) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه الخ (باب البیع الفاسد ، ج: 5 ، ص: 98 ، ط: سعيد)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سرتاج خان ملی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88679کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • صدقہ کی چیز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات