آمدنی و مصارف

فاریکس ٹریڈنگ میں سویپ فری اکاؤنٹ کا حکم

فتوی نمبر :
88433
| تاریخ :
2025-10-29
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

فاریکس ٹریڈنگ میں سویپ فری اکاؤنٹ کا حکم

میں ایک سنجیدہ اور پریشان کن معاملے میں آپ سے رہنمائی چاہتی ہوں۔ میرا نکاح ایک ایسی جگہ طے ہونا تھا جہاں میں خود راضی ہوں اور وہ میرا پسندیدہ رشتہ ہے۔
لیکن میرا نکاح صرف اس وجہ سے رُک گیا ہے کہ لوگ میرے کام ”فاریکس ٹریڈنگ “کو حرام یا سود پر مبنی کاروبار سمجھ رہے ہیں۔میں دل سے چاہتی ہوں کہ یہ نکاح ہو جائے، مگر میرے کام کو غلط سمجھ کر رشتہ روک دیا گیا ہے۔میں نے یوٹیوب اور دیگر ذرائع پر بہت تحقیق کی، لیکن کسی بھی عالم نے تفصیل سے وضاحت نہیں دی۔
1. ہم 100 ڈالر کے ٹریڈ لیتے ہیں، چاہے Buy ہو یا Sell۔
2. ہمارا اصل سرمایہ 100 ڈالر ہوتا ہے اور یہ ہمارے قبضے میں ہوتا ہے — ہم جب چاہیں اسے نکال سکتے ہیں۔
3. بروکر ہمیں لیوریج (Leverage) کی سہولت دیتا ہے، جس سے ہم 100 ڈالر کے بدلے 1000 ڈالر تک کی پوزیشن کھول سکتے ہیں۔
4. یہ سہولت لیکویڈیٹی اور مارکیٹ کے حجم (volume) کے مطابق ملتی ہے، یعنی ہمارا ٹریڈ حقیقی مارکیٹ (real market) میں جاتا ہے۔
5. ہمیں بروکر کی طرف سے جو full control facility ملتی ہے، اس پر بھی ہم اپنے 100 ڈالر کی طرح مکمل طور پر کام اور مینج کرتے ہیں۔
6. لیوریج والی رقم ہم نکال نہیں سکتے — صرف ہمارا اپنا 100 ڈالر اور ٹریڈ بند ہونے پر حاصل ہونے والا منافع یا نقصان ہمارا ہوتا ہے۔
7. ہم سوآپ فری (swap-free) اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں، یعنی اس پر کوئی سود (interest) نہیں لیا جاتا۔
8. لیوریج پر کوئی اضافی چارج یا سود نہیں لگتا، یہ صرف ٹریڈنگ کی سہولت کے طور پر دی جاتی ہے۔
9. جب ٹریڈ بند ہوتی ہے تو حاصل ہونے والا منافع یا نقصان براہِ راست ہمارے اکاؤنٹ میں شامل ہو جاتا ہے، اور ہم اسے نکال سکتے ہیں۔
10. ہم ٹریڈنگ خبروں (news) اور حکمتِ عملی (strategies) کے مطابق کرتے ہیں، اندازے یا جوئے (gambling) کی طرح نہیں۔
مثال:
اگر ہم نے 100 ڈالر سے ٹریڈ لی اور لیوریج کے ذریعے 1000 ڈالر کی پوزیشن کھولی،
تو اگر مارکیٹ 1٪ اوپر جائے تو منافع 10 ڈالر ہوگا (100 + 10 = 110 ڈالر)۔
اور اگر مارکیٹ 1٪ نیچے جائے تو نقصان 10 ڈالر ہوگا (100 − 10 = 90 ڈالر)۔
ہم 100 ڈالر سے Buy یا Sell کی ٹریڈ لیتے ہیں۔
بروکر ہمیں Leverage دیتا ہے، مثلاً 1:10، تو ہم 100 ڈالر سے 1000 ڈالر کی پوزیشن کھول سکتے ہیں۔
باقی 900 ڈالر بروکر کی طرف سے ایک ٹریڈنگ فسیلٹی کے طور پر دیے جاتے ہیں، تاکہ ہم بڑی پوزیشن کھول سکیں۔
یہ فسیلٹی دراصل Forex Market کی liquidity اور volume سے جڑی ہوتی ہے۔
فاریکس دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں روزانہ 7 سے 8 ٹریلین ڈالر کے سودے ہوتے ہیں۔
اتنی بڑی liquidity کی وجہ سے بروکرز اپنے کلائنٹس کو leverage دیتے ہیں، تاکہ وہ بھی مارکیٹ میں حصہ لے سکیں۔
ہماری ٹریڈ ریئل بینکوں اور مالیاتی اداروں (liquidity providers) تک جاتی ہے۔
بروکر صرف middle man کا کردار ادا کرتا ہے — یعنی وہ ہماری ٹریڈ کو مارکیٹ تک پہنچاتا ہے۔
ہمیں اپنی ٹریڈ پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے — ہم اسے manage، close یا modify کر سکتے ہیں۔
جب ٹریڈ مکمل ہو جاتی ہے تو وہ اضافی 900 ڈالر واپس بروکر کو چلے جاتے ہیں۔
بروکر کا فائدہ:
بروکر ہر ٹریڈ پر spread یا commission لیتا ہے۔
جب ہم leverage کے ذریعے بڑی ٹریڈ کرتے ہیں تو بروکر کا منافع بھی اسی حساب سے بڑھ جاتا ہے۔
اسی لیے بروکر liquidity بڑھاتا ہے اور کلائنٹس کو فسیلٹی دے کر اپنا فائدہ بھی لیتا ہے۔
اکثر صرف یہ کہا جاتا ہے کہ "یہ حرام ہے"،لیکن کیوں حرام ہے؟ یہ کوئی نہیں بتاتا،اور کن شرائط کے ساتھ یہ حلال ہو سکتی ہے؟ یہ بھی کسی نے واضح نہیں کیا۔میری گزارش ہے کہ آپ براہِ کرم صاف اور مدلل وضاحت فرمائیں کہ اگر ٹریڈ میں:
کوئی سود نہیں لیا جاتا،swap-free account ہوتا ہے،leverage پر کوئی قرض یا interest شامل نہیں،ٹریڈ حقیقی مارکیٹ میں جاتی ہے، تو کیا یہ طریقہ شرعاً جائز اور حلال ہے؟ مجھے اس میں کوئی حرام پہلو نظر نہیں آتا، پھر بھی میں آپ کی شرعی رائے چاہتی ہوں، تاکہ یقین کے ساتھ آگے بڑھ سکوں۔ اور آپ سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا نکاح آسان فرمائے اور دلوں میں نرمی پیدا کرے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکرکردہ فاریکس کے کا کاروبارمیں شرعی اعتبارسے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں:
1۔ لیوریج (Leverage) حقیقت میں ”قرض کے بدلے تجارت“ ہے، اگرچہ بروکر اسے فیسلٹی(facility) کہتا ہے مگربروکر دراصل اپنی اصل ملکیت سے رقم فراہم کرتا ہے، یہ رقم کام کرنے والے کے اختیار میں آ کر ٹریڈ بنتی ہے،بروکر اس ٹریڈ سے مستقل کمیشن کماتا ہے ،بروکر چونکہ قرض دے کر تجارت کرواتا ہے اور اسی قرض ہی کی وجہ سے اس کی کمائی بڑھتی ہے، یہ قرض کے عوض نفع ہے جو شرعاً سود میں داخل ہے، یعنی چاہے سائلہ" سوآپ فری اکاؤنٹ "میں سود نہ بھی دے، تب بھی یہ معاملہ شرعاسودکے زمرے میں ہی آتاہے اورہرقسم کاسودی معاملہ کرنایااس کاحصہ بنناشرعاناجائزاورحرام ہے۔
2۔ فاریکس ٹریڈنگ میں حقیقی قبضہ (Real Possession) نہیں ہوتا، آن لائن(Online Retail Forex) میں ٹریڈر نہ کرنسی کی فزیکل ڈلیوری لیتا ہے، نہ اس کرنسی پر اس کی ملکیت ثابت ہوتی ہے،بروکر صرف ”قیمتوں کے اتار چڑھاؤ“ میں پوزیشن بنواتا ہے، اس میں ’’صرف ریٹ پر دائو‘‘ لگتا ہے، نہ کہ واقعی خرید و فروخت ہوتی ہے،اسے مالیاتی زبان میں "کانٹریکٹ فار ڈیفرینس"Contract for Difference (CFD) کہا جاتا ہے، جو فقہی طور پر بیع نہیں، بلکہ محض مالی سٹہ ہے۔فقہِ اسلامی میں کرنسی کی بیع کے لیے دو شرطیں لازمی ہیں:
1. ملکیت کا ثبوت
2. قبضہ
اوریہ دونوں شرطیں Online Forex میں نہیں پائی جاتی ہیں۔
3۔ فاریکس کی اصل کمائی خرید و فروخت کے بجائے محض ریٹ پرقیاس آرائی ،تخمینہ ،اندازہ ( Speculation)لگاناہے، کسی قسم کاحقیقی لین دین(buy/sell )سے نہیں، بلکہ قیمت کا اُتار چڑھاؤ (price movement) پر ہوتی ہے، جبکہ حقیقی لین دین اورقبضہ کے بغیر محض قیمت کے اتار چڑھاؤ پر نفع حاصل کرناشرعاًقمار (Gambling) کی ایک صورت ہے جسے قرآن میں صراحتاًحرام قراردیا گیا ہے۔
4۔ فاریکس ٹریڈرپرکام کرنے والے اکثرلوگوں کاخیال یہ ہوتاہے"سوآپ فری" ہونے سے اس کے ناجائزاورحرام ہونے کی علتیں شایدختم ہوجاتی ہیں حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے "سوآپ فری "ہونے کے باوجوداس کےناجائزہونے کی اصل علتیں ختم نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تمام وجوہات برقراررہتی ہیں، کیونکہ اس کے ناجائزہونے کی اصل کی وجوہات درج ذیل ہیں:
2. لیوریج قرض ہی کی ایک صورت ہے جس سے براہ راست نفع لیا جا رہا ہے۔
3. حقیقی خرید و فروخت نہیں ہوتی ہے۔
4. تجارت کابیشتر حصہ ورچوئل قیمتوں پر منحصرہے،جوکہ معاصرفقہاء کرام کے نزدیک مشکوک ومشتبہ ہے ۔
5. کرنسی پرقبضہ ثابت نہیں ہوتا،بلکہ عام طورپرصرف ڈیفرنس برابرکرنے پراکتفاء کیاجاتاہے۔
6. مالیاتی سٹہ (speculation) غالب ہے۔
لہذا "سوآپ فری" ہو یا نہ ہواس کی حرمت کی اصل شرعی علتیں برقرار رہتی ہیں،جس کی وجہ سے فاریکس کا موجودہ طریقہ (لیوریج بیسڈ آن لائن ٹریڈنگ)شرعاًسوداور سٹہ بازی اوردیگرشرعی مفاسد پرمشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،جس سے بہرصورت اجتناب لازم ہے۔
جبکہ سائلہ کی نکاح کی خواہش دینی طور پر نہایت مبارک ہے۔ مگررزقِ حلال کا ترک کر کے نکاح کی راہ اختیار نہیں ہوتی، بلکہ حلال اختیار کرنے سے نکاح میں بھی آسانی آتی ہے۔لہٰذا بہتر یہی ہے سائلہ اس کاروبار کو چھوڑ کر کوئی حلال ذریعہ معاش اختیار کرے، اس میں برکت بھی ہوگی۔ گھر والوں کے شبہات بھی ختم ہو جائیں گے،نکاح کے راستے خود بخود کھل جائیں گے۔
جبکہ نکاح میں سہولت اورآسانی کے لیے سائلہ کو چاہیے کہ بعد نمازِ عشا ء گیارہ گیارہ مرتبہ اول وآخر درود شریف پڑھ کر گیارہ سو گیارہ مرتبہ ”یالطیف یا ودودْ“پڑھ لیا کرے، امید ہے کہ اللہ تعالی اس کی برکت سے جلد از جلد نکاح جیسی اہم اور مبارک سنت کی انجام دہی کے اسباب مہیا فرمائیں گے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88433کی تصدیق کریں
0     483
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • صدقہ کی چیز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات