میں ایک ادارے میں الیکٹریشن کی پوسٹ پر کام کرتا ہوں۔ پہلے میں خود برقی سامان خرید لیتا ہوں، پھر اُنہیں (ادارے کو) مہنگے داموں فروخت کر دیتا ہوں، لیکن میں انہیں یہ نہیں بتاتا کہ یہ سامان میرا اپنا ہے۔ تو کیا میری یہ کمائی حلال ہوگی یا حرام؟
سائل اگر اس کمپنی کا ملازم ہو اور اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں مارکیٹ سے اس سامان کی خریداری بھی شامل ہو اور اس کام کی باقاعدہ اسے تنخواہ ملتی ہو، تو اس کے لئے مطلوبہ اشیاء مارکیٹ سے خرید کر مہنگے دام کمپنی پر فروخت کرنا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر مکررمعلوم کیا جاسکتا ہے۔
و فی الدرالمختار و حاشیۃ ابن عابدین: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية الخ۔ (ج:۴، ص:۵۶۰، کتاب البیوع، ط:سعید)۔
و فی الشامیۃ: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير الخ۔ (ج:۶، ص:۶۳، کتاب الاجارہ، ط:سعید)۔