گزارش ہے کہ ایک بندہ کراچی ڈاک لیبر بورڈ کا ملازم تھا ،جس نے 29 سال اس ادارے میں سروس کی، اس کو یہ کارڈ اپنے والد کی طرف سے ان کی زندگی میں ملا تھا اور اس سے حاصل ہونے والی مراعات میں اس نے اپنے بھائی ،بہنوں اور اپنے والد کا بھی خیال رکھا، عرض یہ ہے کہ 25 سال سروس کے بعد ریٹائر ہو گیا ہو تو اس سے حاصل ہونے والے ریٹائرمنٹ فنڈ میں اس کے اور بھائی بہن حقدار ہوں گے کہ نہیں؟
اب اس کے بھائی اور بہنوں کا دعوی ہے کہ اگر آپ کو جائیداد میں حصہ چاہئیے تو اس کارڈ کا فنڈ بھی تقسیم ہوگا ۔اب ہم نے تقریباً سات سال سے کراچی کا گھر ان کے حوالے کیا ہوا ہے ،جبکہ گاؤں کی 20 مرلہ، یعنی ایک کنال کی زمین بھی ان کے پاس ہے ۔تو اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ ہمیں اس کی تقسیم کس طرح کرنی چاہئیے ؟ایک بھائی کے ساتھ کراچی ڈاک لیبر بورڈ کارڈ ہے اور دو بھائیوں کے پاس کراچی کا گھر اور گاؤں کی زمین ہے ،جبکہ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں ،تو ہم اس کی تقسیم کس طرح کریں؟
مختصر وضاحت : دادا کے انتقال کے وقت تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہی موجود ہیں ،دادی کا انتقال پہلے ہو گیا تھا ،دادا نے اپنی زندگی میں ہی کارڈ اپنے بیٹے کو دے دیا تھا ،اب تقسیم کے وقت دادا کے جائیداد کےعلاوہ اس کارڈ اور پنشن میں دیگر بہن، بھائیوں کا حصہ بنتا ہے کہ نہیں؟
واضح ہو کہ ملازمت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں میراث جاری ہو، بلکہ میراث ان چیزوں میں جاری ہوتی ہے، جو مورث کی وفات کے وقت منقولی یا غیر منقولی سامان اور جائیداد کی شکل میں اس کی ملکیت میں موجود ہوں، لہذا ادارے کے ضابطے کے مطابق مذکور بیٹا والد کی جگہ پر بھرتی ہونے کے بعد اب باقاعدہ اس ادارے کا ملازم بن چکاہے، اور اس کو ملازمت کی خدمات کے نتیجہ میں ملنے والے فنڈز کی رقم تنہا اسی کی ملکیت شمار ہوگی، اس میں دوسرے بہن بھائیوں کا کو حصہ داری کا دعوی کرنا اور اسی بنیاد پر اس کو میراث میں حصہ نہ دینا شرعاً درست نہیں، جس سے احتراز چاہیئے ۔البتہ اگر مذکور بیٹا اپنی مرضی و خوشی سے انہیں کچھ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے، مگر ایسا کرنا اس پر لازم نہیں۔
اس کےبعد واضح ہو کہ سائل کے دادا کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو، تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل نو (9) حصے بنائےجائیں،جن میں سے تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو(2)حصے، جبکہ تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کوایک (1)حصہ دیا جائے۔
کما فی بدائع الصنائع: لأن الإرث إنمّا یجري في المتروک من ملک أو حق للمورث علی ماقال علیہ الصلاۃ والسلام من ترک مالا أو حقا فہو لورثتہ الخ(فصل واما شرائط جواز اقامتھا،ج7ص57،ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1