میرا مسئلہ تھوڑا حیا کے خلاف ہے، لیکن پوچھنا ضروری ہے۔ میرا شوہر حافظ قرآن ہے ، لیکن ہماری شادی کو چھ سال ہوگئے ہیں ،میں نے ان چھ سالوں میں اپنے شوہر کو ایک دفعہ بھی قرآن پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، نا ہی وہ تراویح سناتے ہیں ، نا وہ جمعہ کے علاؤہ نماز پڑھتے ہیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ پورن (فحش فلمیں ) دیکھتے ہیں اور ہاتھ سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میری بیوی کو نہیں پتہ کہ میں یہ کرتا ہوں ، وہ جب یہ سب کرتے ہیں مجھے بہت رونا آتا ہے اور مجھے اپنے شوہر سے نفرت محسوس ہونے لگتی ہے، میرا دل نہیں چاہتا کہ میں ان کے پاس جاؤں یا ان سے بات کروں ، ہمارا رشتہ بہت اچھا ہے وہ میرے حقوق بھی پورے کرتے ہیں ، اب اس بارے میں کیا حکم ہے میرے لیے بھی اور میرے شوہر کے لیے بھی ؟ اور اس چیز کا گناہ کتنا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟
واضح ہوکہ فحش فلمیں دیکھنا اور اس کے نتیجے میں مشت زنی کا ارتکاب کرنا اسی طرح جمعہ کے علاوہ باقی نمازوں کو ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے ، ان کی حرمت پر قرآن و احادیث میں سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو فقط سائلہ کا وہم و گمان نہ ہو، تو سائلہ کے شوہر کا مذکور طرز عمل شرعاً درست نہیں، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہا ہے، جس پر اسے بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے نمازوں کی پاپندی اور اس قبیح عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔ جبکہ سائلہ کو بھی چاہیئے کہ وہ حکمت و بصیرت کے ساتھ اپنے شوہر کوسمجھاکر پاپندی کے ساتھ نمازیں پڑھنے اور اس فعل شنیع سے باز رکھنے کی پوری کوشش کرے اور اسے نیک لوگوں کی صحبت میں رہنے کی ترغیب دے ۔ان شاء اللہ امید ہے کہ وہ راہ راست پر آجائے ۔