السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
اگر کسی شخص کے پاس کسی نوکری کے لیے مطلوبہ علم اور عملی صلاحیت موجود ہو، لیکن کاغذی تقاضے جیسے ڈگری، سرٹیفیکیٹس یا تجربے کے سال پورے نہ ہوں، تو کیا ایسے شخص کے لیے اپنی تعلیمی یا تجربے کی اسناد میں جعل سازی کرنا یا مبالغہ آرائی کرنا جائز ہے؟
مثال کے طور پر، کسی عہدے کے لیے چھ (۶) سال کا تجربہ اور کسی مخصوص کمپنی یا پروجیکٹ کا عملی تجربہ دکھانا لازمی شرط ہو، لیکن اس شخص کے پاس اصل میں صرف چند ماہ کا تجربہ ہو۔ وہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جعلی سرٹیفیکیٹس اور تجربے کے خطوط شامل کرتا ہے، اور انٹرویو یا معاہدے کے کاغذات میں بھی جھوٹ بولنا پڑتا ہے، حالانکہ عملی طور پر وہ کام جانتا اور کر سکتا ہے۔
اگر کبھی کمپنی کو اس جعل سازی کا پتا چل جائے تو پابندی یا سزا بھی لگ سکتی ہے۔
ایسے عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہوگا؟ اور اگر کسی نے ایسا کیا ہو تو اس کے لیے توبہ اور اصلاح کا صحیح طریقہ کیا ہے؟جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہوکہ کسی نوکری کے حصول کےلئے جھوٹی ڈگریاں،جعلی تجرباتی اسناد،غلط سرٹیفیکیٹس بنوانا،یا اپنے تجربے کے بارے میں مبالغہ کرنا اور جھوٹ بولناشرعاً سخت حرام،کبیرہ گناہ،اور غش (دھوکا) کے زمرے میں داخل ہے۔جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذااگر کسی شخص نے لاعلمی میں ایسا کرلیا ہو تو اس پر لازم ہےکہ وہ اپنے اس عمل پربصدق دل توبہ واستغفار کرےاور آئندہ اس قسم کی حرکت سے مکمل اجتناب برتے، تاہم اس ڈگری کی وجہ سے شخص مذکور نے اگرکسی ادارے میں جائز ملازمت اختیار کرلی ہو، اوراس کے اندرواقعۃً مذکور ملازمت کی اہلیت اور استعداد موجود ہو اور دورانِ ملازمت مفوّضہ امور کی انجام دہی بھی پوری دیانت داری کے ساتھ کرتا ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے اس ملازمت سے حاصل شدہ آمدنی حلال اوراس کو اپنے استعمال میں لانے کی شرعا گنجائش ہے۔
کما فی الصحیح لمسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا » الخ(کتاب الایمان،باب قول النبي صلى الله عليه تعالى وسلم: من غشنا فليس منا،ح164،ج1،ص69،ط: دار الطباعۃ العامرۃ)۔
وفی سنن الترمذی: عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إذا کذب العبد تباعد عنہ الملَکُ میلاً من نتن ما جاء بہ الخ(ابواب البر والصلۃ،باب ماجاء فی الصدق والکذب،ح1972،ج3،ص517،ط: دار الغرب الاسلامی)۔
وفی الھندیۃ: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي الخ(کتاب الاجارۃ، الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره،ج4،ص412،ط: ماجدیۃ)۔