ایک امریکی کمپنی ہے، اس کو لانچ ہوئے ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا ہے، اس لئےوہ آفر دے رہی ہے،آفر دو طریقے کا ہے، پہلا آفر یہ ہے کہ ایک سال کے لئےایگریمنٹ ہوتا ہے، اس ایک سال میں صرف ایک مرتبہ شروع میں رجسٹری کے وقت 1800 روپے دینا پڑے گا، پھر روزانہ مختلف چیزوں ہوٹل جہاز وغیرہ کے فوٹو دیے جائیں گے، اسے لائک کرنا ہے تو روزانہ 60روپے ملیں گے۔دوسرا آفر یہ ہے کہ اگر رجسٹری کرانے کے بعد اپنے لنک سے کم از کم 10 آدمیوں کو اس کمپنی سے جوڑیں گے آٹھ ہزار ماہانہ ملے گا۔یہ امریکہ کی باضابطہ رجسٹرڈ کمپنی ہے کسی آدمی یا کسی گروپ کی کوئی چیز نہیں ہے۔
سائل نے سوال میں مذکور کمپنی کے طریقہ کار کی جو تفصیل ذکر کی ہے، آج کل اس نوعیت کا کاروبار بہت رائج ہیں،لیکن اس میں عموماًشرعی اصول وضوابط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، نیز اس میں دھوکہ دہی اور پیسے ڈوب جانے کا بھی قوی اندیشہ رہتا ہے، اور اس کے ساتھ نیٹ ورک مارکیٹنگ کا کا م بھی جڑا ہوا ہے(جیسا کہ سائل نے سوال میں وضاحت بھی کی ہے)تو اس کی خرابی اوربھی بڑھ جاتی ہےلہذا ان جیسےکمپنیوں میں بغیر تحقیق کے پیسے انویسٹ کرنے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : (ھی) لغۃ اسم للأجرۃ و ھو ما استحق علی عمل الخیر ولذا یدعی بہ یقال اعظم اللہ أجرک ( تملیک نفع ) مقصود من العین (بعوض) حتی لو استاجر ثیابا أو أوانی لیتجمل بھا أو دآبۃ لیجنبھا بین یدیہ أو دارا لیسکنھا أو عبدا أو غیر ذلک لا لیستعملہ بل لیظن الناس أنہ لہ فالإجارۃ فاسدۃ فی الکل ولا أجر لہ لأنھا منفعۃ غیر مقصودۃ من العین الخ
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ مقصود من العین ) أی فی الشرع و نظر العقلاء (إلی قولہ) فإنہ و إن کان مقصودا للمستأجر لکنہ لا نفع فیہ و لیس من المقاصد الشرعیۃ الخ ( ج: 4، ص: 6، ط: سعید )۔
وفی فقہ البیوع : وقد جری عمل بعض الشرکات علی أنھا منتجا من منتجاتھا مع اعطاء الحق أن یسوق ذالک المنتج ویلتمس لہ مشترین آخرین، فلو فعل ذالک ونجح فی الحصول علی عدد من المشترین بشروط یعینھا نظام الشرکۃ فانہ یفوز بمبلغ أو شیئ ثمین من قبل الشرکۃ وکذالک المشترون الجدد الذین اشتروا ھذا المنتج بواسطۃ المشتری الاول یحق لھم ان یلتمسوا مشترین آخرین فان نجحوا فی ایجاد عدد معین من المشترین بالشروط المعینۃ فی النظام فانھم یستحقون ذالک المبلغ أو شئی ثمین ایضآً (الی قولہ) وان الحکم الشرعی لھذا النظام وشراء منتاجہ یختلف باختلاف الاحوال، إن کان بیع المنتج مشروطا بأن یدخل المشتری فی شبکۃ التسویق فھذا البیع فاسدا لإشتراط ما لا یقتضیہ العقد (الی قولہ) والذی شھدت بہ التجربۃ أن المنتج فی غالب الاحیان شیئ یسیر یباع بثمن غال وقد لا یوجد لہ السوق وانما یشتریہ طمعاً فی الحصول علی مبالغ ضخمۃ عن طریق شبکۃ التسویق وکان بعض الناس قبل ھذا النظام لا یبیعون شیئا بل یتسلمون الاموال بدفعھم تذاکر لیس وراءھا مال أو منفعۃ، غیر انّ الذی یأخذہ ھذہ التذکرۃ یدخل فی الشبکۃ ویلتمس آخرین شراء التذاکر ویفوز بمبالغ ان بلغ المشترون الی عدد معین وکان ذالک قماراً بحتاً (المبحث الثامن البیع عن طریق شبکۃ التسویق ج: 2، ص: 812، ط: معارف القرآن کراتشی )۔