السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته! میرا شوہر ایک عرصہ سے مجھے ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا کیے ہوئے ہیں، معمولی معمولی بات پر مجھے بد زبانی اور گالی گلوچ کرتا ہے، کئی بار بول چکا ہے کہ جس مرد کے ساتھ خوش رہنا ہے اس کے ساتھ نکاح کر لو، کئی بار بول چکا ہے کہ میرے گھر سے چلی جاو،میرا شوہر نہ تو میرا خرچہ دیتا ہے نہ ہی مجھ سے اچھے اخلاق سے پیش آتا ہے، ہر وقت مجھے دھتکارتا ہے، گالیاں دیتا ہے، ذلیل و رسوا کرتا ہے ،غصے میں کبھی مجھے گھر سے نکلنے کا کہتا ہے ، اس وجہ سے میری زندگی اجیرن ہو چکی ہے،میری گزارش ہے کہ مجھے شریعت کی روشنی میں بتا دیا جائے کہ ایسی صورت حال میں میرا کیا حکم ہے؟کیا نکاح ختم ہو چکا ہے یا باقی ہے ؟اگر باقی ہے تو مجھے اس اذیت ناک زندگی سے نجات کیسے مل سکتی ہے؟ براہ کرم میری اس مشکل کو آسان کریں ۔
سائلہ نے اپنے شوہر کے ذکر کردہ رویہ کی وجوہات بیان نہیں کی اور نہ ہی شوہر کا بیان شامل کیا ہے کہ جس طرح سائلہ کو اپنے شوہر کے رویہ پر اعتراض ہے اسی طرح شوہر بھی سائلہ کی رویہ سے مطمئن ہے یا نہیں، تا ہم میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں اور دونوں کے ذمہ شرعاً ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری لازم ہے اور اس میں جان بوجھ کر کوتاہی حق تلفی ہونے کی وجہ سے قابل مؤاخذہ جرم اور گناہ ہے،لہذا سائلہ کے شوہر کو چاہئیے کہ وہ اپنے اس رویہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے سائلہ کے واجبی حقوق کی ادائیگی کی فکر کریں اور اگر خاندان کے بڑوں کے ذریعہ سمجھانے کے باوجود اس کے رویہ میں بہتری کی کوئی امید نہ ہو اور نہ ہی وہ اپنے واجب حقوق اور نان و نفقہ کی ادائیگی کے لئے تیار ہو،تو ایسی صورت میں سائلہ اس سے خلع یا طلاق کے ذریعہ علیحدگی حاصل کر سکتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ شرعا گنہگار نہ ہوگی۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فإِن خِفتُم ألّا يُقِيما حُدُود اللّهِ فلا جُناح عليهِما فِيما افتدت بِهِ (سورۃالبقرۃ: آیت 228)۔
و فی المبسوط للسرخسی: فيحتمل الفسخ بالتراضى أيضًا، وذلك بالخلع، واعتبر هذه المعاوضة المحتملة للفسخ بالبيع والشراء في جواز فسخها بالتراضى إلخ۔ (كتاب الطلاق ، باب الخلع، ج: 6، ص: 171، ط: دار المعرفة)۔
و فی الھدایۃ: و إذا تشاق الزوجان و خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به إلخ۔ (باب الخلع، ج: 2، ص: 96، ط: انعامیة)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة الخ۔ (كتاب الطلاق،الباب التاسع عشر فی النفقات،ج:1،ص:544،ط:رشیدیہ)۔