عنوان : Vocal Media سے آمدنی کے بارے میں سوال ہے۔ سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! میں ایک آن لائن پلیٹ فارم Vocal Media پر مختلف موضوعات پر مضامین اور کہانیاں لکھتا ہوں، اس پلیٹ فارم کی پالیسی کے مطابق میری تحریروں کو پڑھنے والوں کی تعداد کے حساب سے مجھے کچھ رقم دی جاتی ہے، میری تحریروں کا موضوع تعلیم، اخلاقیات، اصلاحی اور معلوماتی مضامین پر مشتمل ہوتا ہے، اور میں کسی حرام، فحش یا غیر اخلاقی مواد سے پرہیز کرتا ہوں، براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں ارشاد فرمائیں کہ: 1. کیا اس پلیٹ فارم سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے؟ 2. اگر کسی تحریر سے آمدنی ہو تو کیا اس پر زکوٰۃ یا دیگر شرعی احکام لاگو ہوں گے؟ جزاکم اللہ خیراً۔ والسلام
صورتِ مسئولہ میں مذکور پلیٹ فارم پر سائل کی تحریریں اگر کسی قسم کی بے حیائی ، فحش یا غیر اخلاقی مواد پر مشتمل نہ ہوں تو ایسی صورت میں ان تحریروں پر ملنے والے ویوز کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن جائز اور حلال ہے، جبکہ سائل پر علیحدہ سے مذکور منافع پر زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں، تاہم اگر سائل پہلے سے صاحبِ نصاب ہو اور ہر سال زکوۃ ادا کرتا ہو ، تو جس تاریخ کو سائل زکوۃ ادا کرتا ہو ، اس دن تک ان تحریروں سے حاصل شدہ منافع اس کے پاس موجود و جمع شدہ رکھا ہو تو اس کو بھی دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ ملا کر زکوۃ ادا کی جائے گی۔
کما قال اللہ تعالى : ان اللّٰہ يأمر بالعدل و الاحسان و ایتاء ذی القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغی يعظكم لعلكم تذكرون ( النحل : 90)۔
وفی صحیح البخاری: عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ قال: قال النبی ﷺ الحلال بین والحرام بین وبینھما امور مشتبھۃ فمن ترک ما شبہ علیہ من الإثم کان لما استبان لہ اترک ومن اجترأ علی ما یشک فیہ من الإثم أوشک أن یواقع ما استبان والمعاصی حمی اللہ من یرجع حول الحمی یوشک أن یواقعہ الخ (ج: 2،ص: 1000، باب الحلال بین و الحرام بین ، ط: البشرٰی)۔
وفی الدر المختار : (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول؛ لحولانه عليه (تام) (الی قولہ) (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)اھ (كتاب الزكاة ، ج: 2 ، ص: 259 ، ط: سعید)۔