السلام علیکم،
اگر بیوی اپنے شوہر کے خلاف تحفظ کا حکم یا پرنٹنگ آرڈرز حاصل کرتی ہے اور یہ جھوٹے یا مبالغہ آمیز الزامات کی بنیاد پر کرتی ہے، اور وہ مغربی ملک کے قانونی نظام کے میل یا جھکاؤ کا فائدہ اٹھاتی ہے، تو اسلام اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس کا کیا حکم ہے؟
اسلام جھوٹے یا مبالغہ آمیز الزامات کے بارے میں کیا کہتا ہے، خاص طور پر جب ان کے نتیجے میں تحفظ کا حکم یا پرنٹنگ آرڈر حاصل کیا جائے؟
شریعت میں اس بات کا کیا حکم ہے کہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر تحفظ کا حکم یا پرنٹنگ آرڈر حاصل کیا جائے؟
کیا اسلام میں یہ جائز ہے کہ کوئی شخص ایک جھکے ہوئے قانونی نظام کا فائدہ اٹھائے اور ذاتی فائدے کے لیے اسے استعمال کرے؟
براہ کرم رہنمائی دونوں زبانوں میں، انگریزی اور اردو، میں فراہم کریں۔جزاک اللہ خیر آپ کی رہنمائی کے لئے۔
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بیوی کی طرف سے اس پر کیا جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، اور اس کے نتیجے میں protection orderیا prohibition orderکے ذریعے سائل پر کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائل کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کی بیوی کا سائل کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانا اور ان الزامات کی بنیاد پر مغربی ممالک کے قوانین کا سہارا لینا قطعاً جائز نہیں بلکہ ان دونوں کو چاہیئے کہ اس طرح کے معاملات میں مستند علماء کو ثالث بنا کر ان کے فیصلوں کے مطابق عمل کرنے کا اہتمام کرے، چنانچہ سائل اور اس کی بیوی کے درمیان جو معاملات چل رہے ہیں اگر ان کی تفصیل لکھ کر ہمارے ہاں بھیج دیں تو شریعت مطہرہ کی روشنی میں ان معاملات کے احکامِ شرعیہ آگاہ کر دیا جائیگا۔
كما قال لله تعالى في القران المجيد: فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰذِبِينَ(سورة آل عمران:آيه:٦١)
و قال اللہ تعالی فی مقام آخر: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا(سورة النساء:آيه:٥٩)
وفي صحيح البخاري: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان).(باب: علامة المنافق ،ج:١،ص:١٤٣،مط:البشرى،رقم الحديث:٣٣)